قصور:ریسکیو 1122 قصور کی جانب سے ریلی، سیمینارز،سکول و کالجز میں لیکچرز کا انعقاد کیا گیا۔

قصور:(ملک اصغر علی) بانی ڈائریکٹر جنرل ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر(ستارہ امتیاز) کی خصوصی ہدایت پر 8 اکتوبرکے حوالے سے قدرتی آفات سے نمٹنے اور فرسٹ ایڈ ٹریننگ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ ریسکیو 1122 قصور کی جانب سے ریلی، سیمینارز،سکول و کالجز میں لیکچرز کا انعقاد کیا گیا۔نیشنل ڈیزاسٹر ڈے کے حوالے سے ریسکیو 1122 قصور نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سلطان محمود کی سربراہی میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیاگیا اس سلسلے میں گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول سے کچہری چوک تک آگاہی واک کا اہتمام کیا گیاجس میں ریسکیو 1122 کے آفیسران ایڈمن،اپریشنل اور کنٹرول روم سٹاف،ریسکیووالیئنٹرز اور سکول و کالج کے طلباء  اساتذہ اور مختلف مکاتب فکر کے احباب نے شرکت کی۔۔اس موقع پر ضلع بھر کے ریسکیوئرز اور شرکاء  نے اکتوبر 2005کے زلزلہ میں جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور شہداء کی درجات کی بلندی کیلئے دعا بھی کی گئی۔

اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں اس دن کے حوالے سے آگاہی سے متعلق ریسکیو 1122 قصور کی جانب سے خصوصی لیکچرز کا اہتمام بھی کیا گیا۔جس کا مقصد 8اکتوبر 2005 میں زلزلہ سے متاثرہ شمالی علاقہ جات میں آنے والی تباہی اس کے اثرات اور مستقبل میں کسی ممکنہ قدرتی آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جانی و مالی نقصان سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی دینا تھا۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سلطان محمود کا کہنا تھاکہ آج کا دن National Resilience Day کے طور پر پورے ملک میں منایا جارہا ہے۔زندہ قومیں اپنے ماضی کو نہیں بھولتیں خواہ کتنا ہی تاریک اور دردناک کیوں نہ ہو اور وہ اپنے مستقبل کو مرتب کرتے وقت ماضی کے پس منظر کو مدنظر رکھتی ہیں۔ویسے تو پوری ایک دہائی سے ہم کسی نہ کسی صورت میں ناگہانی صورت حال کا شکا ر رہے ہیں۔ خواہ وہ زلزلہ کو صورت میں ہو، دہشت گردی کے واقعات کا سامنا ہو یا ملک کے طول و عرض میں آنے والے سیلاب ہوں۔8اکتوبر 2005کی صبح8:30پر7.6کی شدت پر آنے والے زلزلے نے پورے ملک کو ہلا دیا۔خاص طور پر صوبہ خیبر پختون خواہ ، وفاقی دارالحکومت اورآزاد کشمیر کے شمالی اضلاع زلزلے کی لپیٹ میں آئے۔ مبینہ طور پر ایبٹ آباد،مانسہرہ،ہزارہ ڈویژن،بٹ گرام، سوات،مظفرآباداور راولا کوٹ زلزلے کے جھٹکے سے متاثر ہوئے۔ اس زلزلے میں تقریباً90000ہزار سے زیادہ  لوگ ہلاک ہوئے۔جس میں زیادہ تر بچے اور خواتین زلزلے کی زد میں آئے تھے۔3.5ملین گھر اور گاؤں اس میں متاثرہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں