اسلام اباد:ہائیکورٹ کی وزیراعظم کواین ڈی ایم اےاجلاس بلاکرذمہ داران کےتعین کی ہدایت

اسلام آباد:(صاف بات) ہائی کورٹ میں سانحہ مری کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزارکے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مفاد عامہ میں درخواست دائر کی گئی ہے، میرا موکل 7 جنوری کو مری گیا اورجب ٹول پلازہ سے سیاح مری جا رہے تھے تو کسی نے ان کو نہیں روکا نہ خدشے سے آگاہ کیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ تو سیاح ہر سال اسی طرح مری جاتے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ کو روسٹرم پر بلا لیا اور این ڈی ایم اے سے متعلقہ قوانین پڑھنے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے اور استفسار کیا کہ این ڈی ایم اے اتنی بڑی باڈی ہے،کیا اتنی بڑی باڈی کی کبھی بھی کوئی میٹنگ ہوئی ہے؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ این ڈی ایم اے کےحوالے سے ہدایات لےکرہی عدالت کو آگاہ کرسکتا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس حوالے سے توباقاعدہ مینجمنٹ پلان ہونا چاہیے تھا۔اسلام آبادہائی کورٹ نے سانحہ مری پر این ڈی ایم اے حکام کو طلب کرلیا۔عدالت میں این ڈی ایم اے کے رکن نے انکشاف کیا کہ 2018 سے این ڈی ایم اے کمیشن کی کوئی میٹنگ ہی نہیں ہوئی۔اس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ اموات کی ذمہ دار پوری کی پوری ریاست ہے۔چیف جسٹس نے وزیراعظم کو ایک ہفتے میں این ڈی ایم اے کمیشن کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اجلاس بلا کرسانحہ مری کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی زیادہ وقت دینے کی استدعا مسترد کردی اور ریمارکس دئیے کہ یہ انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا معاملہ ہے،اس دوران کوئی اورسانحہ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا۔عدالت نے حکم دیا کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے آئندہ جمعہ تک عدالت کو آگاہ کریں،میٹنگز نہ ہونا این ڈی ایم اے کی ناکامی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نےمزید ریمارکس دئیے کہ این ڈی ایم اے نے قانون نافذ کیا ہوتا توایک بھی موت نہ ہوتی۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ سانحہ مری پر تو انکوائری کی ضرورت ہی نہیں،اس سانحے پر انگلی این ڈی ایم اے پر جا کر ہی ٹھہرتی ہے۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ اس سانحہ پر مری کے لوگوں کا کیا قصور ہے اورانہیں کیوں بدنام کررہے ہیں؟۔برف باری کے دوران مری کے لوگوں کی ذمہ داری تھی یا ریاست کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں