بھارتی حکومت کیجانب سے کرتار پور آمد پر سخت پالیسیاں سکھوں میں تشویش

کرتار پور :(صاف بات) بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے۔

پاکستان نے  سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے 550 جنم دن کے موقع پر 9 نومبر میں کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا ہے جس کے ذریعے بھارت میں بسنے والے سکھ بغیر ویزہ کرتار پور گوردوارے تک آ سکیں گے۔ سکھوں کی عالمی تنظیم ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کےصدرجوگت سنگھ نے لاہور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں موجودسکھ برادری کرتارپور راہداری کھولنے کا خیرمقدم کرتی ہے مگر بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنے کی تقریب کو اہمیت نہیں دی گئی جس کے باعث سکھ برادری کو اس حوالے سے مایوسی ہوئی ہے۔ جوگت سنگھ کا کہنا تھا کہ کہ کرتارپور آنے کے لئے بھارت نے سخت پالیسیاں عائد کر رکھی ہیں،جس کی وجہ سے زیادہ سکھ کرتار پور آ نہیں پا رہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی انہوں نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظالم چاہے کشمیر میں ہوں یا کہیں اور، سکھ کمیونٹی اس کی مذمت کرتی ہے۔

یاد رہے کہ کرتار پور کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کی دعوت پر کانگریس رہنما اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے شرکت کی تھی جب کہ بھارتی حکومت کی طرف سے وزیر خوراک ہرسمرت کور اور وزیر تعمیرات ہردیپ سنگھ شریک ہوئے تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے سابق کرکٹر اور کانگریس کےرہنما نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ میری زبان سے 14 کروڑ سکھوں کی آواز نکل رہی ہے، میں آپ کے لیے شکرانہ لے کر آیا ہوں، نذرانہ لے کر آیا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ، ہماری 4 پشتیں اپنے گرو کے گھر آنے کے لیے ترستی رہیں، سکندر نے ڈرا کر دنیا جیتی تھی لیکن عمران خان نے محبت سے دنیا کے دل جیت لیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں