میاں نواز شریف کے علاج میں حکومت نے غیر ضروری اور غیر انسانی تاخیری حربے اپنائے۔

لاہور:(صاف بات) نواز شریف کو علاج کے لیے 15 روز پہلے ہی پاکستان سے چلے جانا چاہیے تھا، حکومت نے غیر ضروری اور غیر انسانی تاخیری حربے اپنائے۔  احسن اقبال

مسلم لیگ ن  کے اجلاس کے بعد میڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’حکومتی مشیر کہتے پھررہے ہيں کہ نواز شریف جہاں جائيں گے عدالتی فیصلہ وہاں بھیجا جائے گا، کیا آج تک کسی نے یہ کہا ہے کہ ہمارا وزیراعظم جہاں جائے گا کیلی فورنیا کی عدالت کا فیصلہ وہاں بھیجیں گے؟‘مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ نواز شریف منگل کی صبح لندن روانہ ہوں گے، شہباز شریف کی عدم موجودگی میں پارٹی رہنماﺅں کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ لندن روانگی سے قبل شہباز شریف نے پارٹی رہنماﺅں کے ساتھ بڑی بیٹھک جمائی۔ اجلاس میں احسن اقبال، رانا تنویر حسین اور خواجہ آصف کو پارٹی اور پارلیمانی امور کی ذمہ دریاں سونپی گئیں۔

اجلاس میں قیادت کی عدم موجودگی میں ملک بھر میں ورکرز کنونشن کرنے پر اتفاق ہوا۔اجلاس کے بعد احسن اقبال نے کہاکہ میاں نواز شریف صبح لندن روانہ ہو رہے ہیں، افسوس ہے کہ ان کی بیماری پر سیاست کی گئی اور ان کے علاج میں پندرہ دن کی تاخیر کی گئی۔ احسن اقبال نے کہاکہ ن لیگ کل رہبر کمیٹی کے ہونے والے اجلاس میں شرکت کرے گی اور اپوزیشن کے اتحاد کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں