اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں فریال تالپور کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔

اسلام آباد: (صاف بات) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں فریال تالپور کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نیب پراسیکیوشن ٹیم کی عدالت میں عدم حاضری پر برہم ہوئے اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب کو طلب کیا۔جسٹس عامر فاروق نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب سے استفسار کیا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا فریال تالپور سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے؟ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ اس کیس میں فریال تالپور سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اے ون انٹرنیشنل کے جعلی بینک اکاؤنٹ میں رقم گئی جہاں سے زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوئی، یہی رقم بعد میں فریال تالپور کے دستخط سے نکلوائی گئی۔نیب نے ضمانت پر رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ فریال تالپور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں نامزد ملزمہ اور ان اکاؤنٹس کی بینیفشری ہیں۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ بینک اکاؤنٹ میں کتنی رقم تھی؟ آپ نے کیسے طے کیا کہ نکلوائی گئی رقم وہی تھی جو جعلی بینک اکاؤنٹ سے آئی تھی؟بعدازاں عدالت نے فریال تالپور کو ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ  فریال تالپور کے بھائی سابق صدر آصف علی زرداری کو  بھی اسلام آباد ہائیکورٹ سے میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز میں ضمانت کی درخواست منظور ہونے پر 12 دسمبر کو رہا کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں