اسلام آباد : مشرف کیخلاف فیصلہ انسانیت، مذہب، تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہے، ترجمان پاک فوج

اسلام آباد : مشرف کیخلاف فیصلہ انسانیت، مذہب، تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہے، ترجمان پاک فوج

ترجمان پاک فوج نتے کہا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف سنایا جانے والا فیصلہ خاص طور پر اس میں استعمال ہونے والے الفاظ انسانیت، مذہب، تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ ادارے کے وقار کا دفاع کرنا بھی جانتی ہے۔ ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے حوالے سےخصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ 17 دسمبر کو مختصر فیصلے کے بعد بھی یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ ترجمان پاک فوج پریس کانفرنس کریں گے تاہم وہ اچانک پشاور روانہ ہوگئے تھے اور پریس کانفرنس ملتوی کردی گئی تھی۔ خیال رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی اور کیس کا فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔

آج خصوصی عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 5 بار سزائے موت دی جائے۔ 169 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا فیصلہ دیا جب کہ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا اور پرویز مشرف کو تمام الزامات سے بری کیا۔ خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں پرویز مشرف کو بیرون ملک بھگانے والے تمام سہولت کاروں کو بھی قانون کےکٹہرےمیں لا نے کا حکم دیا اور فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے جسٹس وقار سیٹھ نے پیرا 66 میں لکھا ہے کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہوجائیں تو لاش کو ڈی چوک پر لاکر تین دن تک لٹکایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں