اسلام آباد :ملزم سے اتنی نفرت تھی تو کیس نہیں سننا چاہیے تھا، فیصل چوہدری

اسلام آباد : (صاف بات)ملزم سے اتنی نفرت تھی تو کیس نہیں سننا چاہیے تھا، فیصل چوہدری

پرویز مشرف کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد فیصل چوہدری نے کہا کہ جج پر ذمہ د اری ہوتی ہے، ملزم سے اتنی نفرت تھی تو کیس نہیں سننا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی فیصلہ دو دن پہلے عدالت میں سنایا جاتا، فیصلے کے 66 ویں پیرا کی تحریر بارہویں تیرہویں صدی کی لگتی ہے، فیصلے کا پیرا نمبر 66 پڑھ کر اس کے قانونی ہونے پر حیرانی ہوتی ہے۔خیال رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی اور کیس کا فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔

آج خصوصی عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 5 بار سزائے موت دی جائے۔169 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا فیصلہ دیا جب کہ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا اور پرویز مشرف کو تمام الزامات سے بری کیا۔خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں پرویز مشرف کو بیرون ملک بھگانے والے تمام سہولت کاروں کو بھی قانون کےکٹہرےمیں لا نے کا حکم دیا اور فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے جسٹس وقار سیٹھ نے پیرا 66 میں لکھا ہے کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہوجائیں تو لاش کو ڈی چوک پر لاکر تین دن تک لٹکایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں