مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجی محاصرہ مسلسل 141ویں روزبھی جاری رہنے سے نظام زندگی بدستور مفلو ج

مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجی محاصرہ مسلسل 141ویں روزبھی جاری رہنے سے نظام زندگی بدستور مفلو ج

 مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے مسلط کر دہ فوجی محاصر ہ پیر کو مسلسل141 ویں روز بھی جاری رہنے کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموں اور لداخ خطوں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں نظام زندگی بدستور مفلوج رہی اور لوگ شدید مشکلات سے دوچارہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیر میں دفعہ 144کے تحت عائدسخت پابندیوں ، بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوںکی تعیناتی ، پری پیڈ موبائل فون، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل ہونے کے باعث لوگوںکو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ایک دوسرے سے رابطہ بھی نہیں کرسکتے۔ حریت رہنما اور جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم میر کی زیر صدارت جموں میں مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے اجلاس میںبھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے حال ہی میں مسلمان مخالف شہریت کے متنازعہ قانون کی منظور ی کے بعد پید ا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء نے قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت میں مسلمانوںکو نشانہ بنانے اور انہیں ملک بدر کرنے کی بڑی سازش کاحصہ قرار دیا۔ میر شاہد سلیم نے گاندھی پیس فاؤنڈیشن نئی دہلی میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر پر بھارتی افواج کے قبضے کے بعد سے بھارت مقبوضہ علاقے کے ساتھ اپنی نوآبادیاتی جیسا سلوک کررہا ہے۔ تقریب کا اہتمام گاندھی پیس فاؤنڈیشن ، جموں و کشمیر فورم برائے امن اور علاقائی یکجہتی ، جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ ،بنگلہ دیش بھارت پاکستان پیپلز فورم ، حق انصاف پارٹی ، جموںوکشمیر پیپلز ڈیموکریٹک موومنٹ ، خدائی خدمت گار ، سماج وادی سماگم ، نیشنل الائنس آف پیپلز موومنٹ اورسوشلسٹ پارٹی انڈیا نے مشترکہ طورپر کیاتھا۔ سیمینار کا اہتمام بھارتی سول سوسائٹی کو جموں و کشمیر کے عوام کے دکھ اور تکالیف کا احساس دلانے کیلئے کیا گیا تھا۔ جموں وکشمیر کے نمائندوں کے علاوہ سماجی وسیاسی کارکنوں ، ادیبوں ، مفکرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے سیمینار میں شرکت کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں