لوڈ کنٹینر پکڑنابنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،اسلام آبادہائیکورٹ

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے آزادی مارچ کے شرکاء کے پہنچنے سے قبل وفاقی دارالحکومت کی شاہراؤں پرجگہ جگہ لگائے گئے کنٹینرز سے متعلق تفصیلات بتادیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو کنٹينز پکڑنے سے روک ديا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں آزادی مارچ کے پیش نظرکنٹینرز کی پکڑ دھکڑ کے خلاف درخواست پر ہونے والی سماعت میں ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقات پیش ہوئے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا، ڈی سی صاحب کیا آپ نے کنٹینرپکڑے ہیں؟ لوڈ کنٹینر پکڑنا بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ ہمارے پاس درخواست آئی ہے آپ نے لوڈ کنٹینر بھی پکڑ لیے۔ ڈی سی اسلام آباد نے جواب میں کہا کہ ہم نے کوئی کنٹینر نہیں پکڑا، کنٹینرزایک کمپنی سے 6 کروڑ روپے کا معاہدہ کرکے حاصل کیے گئے ہیں۔ ہمیں لاہورکی ایک کمپنی معاہدے کے تحت کنٹینرمہیا کرتی ہے، پیپرا قوانین کے تحت تمام کنٹینر ٹھیکہ دے کر کرائے پر حاصل کیے ہیں۔ حکومت کی ہدایت ہے کہ کسی کے حقوق کو متاثرنہیں کرنا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے کچھ کنٹینرزایس پی کی سفارش سے چھڑوائے ہیں، جس پر چیف جسٹس بولے کیا کہا،کیا آپ نے سفارش کروائی ہے؟ چیف جسٹس کے استفسار پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے ۔ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم نے 2014 کے دھرنے میں بھی لوڈ کنٹینر پکڑنے سے روکا تھا۔ وفاقی حکومت یقینی بنائے کراچی سے اسلام آباد تک کوئی لوڈ کنٹینر نہ پکڑا جائے اور اگرکوئی لوڈ کنٹینر پکڑا گیا ہے تو اُسے معاوضہ ادا کرنا ہو گا۔ اگر صوبوں میں کنٹینرز پکڑے گئے تو وفاقی حکومت انہیں بھی ہدایت دے۔ عدالت نے لوڈ کنٹینرز پکڑنے کی صورت میں ان کے مالکان کو معاوضے کے لیے حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےدرخواست نمٹادی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں