اسلام آباد :معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی سرپرستی کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،صدر مملکت

اسلام آباد : (صاف بات )معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی سرپرستی کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی سرپرستی کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، تعلیم تک سب کی رسائی آسان بنانے کے لیے وظائف کی بڑی افادیت ہے، احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پراجیکٹ موجودہ حکومت کا بڑا اقدام ہے جس کے تحت 50 ہزار مستحق طلباءو طالبات کو تعلیمی وظائف فراہم کیے جائیں گے، اس سلسلے میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ہائر ایجوکیشن کمیشن میں 27 ویں وائس چانسلرز کمیٹی میٹنگ برائے احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پراجیکٹ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانثیہ نشتر، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری اور چیئرمین وائس چانسلرز کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ تعلیمی وظائف کی اہمیت سے ہر کوئی واقف ہے،

میں نے خود بھی میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر سکالر شپس حاصل کیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے فلاحی ریاست کی طرز پر احساس پروگرام شروع کیا ہے جس میں معاشرے کے غریب اور محروم طبقات کا خیال رکھا گیا ہے، احساس انڈر گریجویٹ پروگرام اسی کا حصہ ہے جس کے تحت مستحق طلباءو طالبات کو 50 ہزار سکالر شپس دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پروگرام کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں، پروگرام کی مناسب تشہیر کی ضرورت ہے، یہ بہت بڑا قدم ہے، اس سلسلے میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔صدر مملکت نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرے۔انھوں نے احساس پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف میں لڑکیوں کے لیے 50 فیصد سکالر شپس مختص کرنے کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ خواتین کو تعلیم اور ہنر حاصل کر کے محض امور خانہ داری سرانجام دینے کی بجائے انھیں معاشرے کی بہتری کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ معاشرے کے خصوصی افراد کا خاص طور پر خیال رکھا جائے، 23 مارچ کو ایوارڈز کے لیے ایسے لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے

جنہوں نے اپنی کسی معذوری کو خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی وظائف کے علاوہ خصوصی افراد کی یونیورسٹیوں میں رسائی بھی آسان بنائی جائے، انہیں روزگار کے مواقع کے ساتھ ساتھ مطلوبہ تربیت کی فراہمی کا بھی انتظام کیا جائے۔ صدر مملکت نے کہا کہ تعلیم کو معاشرے اور مارکیٹ کی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ فارغ التحصیل ہونے والے طلباءو طالبات باآسانی روزگار حاصل کر سکیں، اس مقصد کے لیے تعلیمی سرگرمیوں میں صنعت اور مارکیٹ کو شامل کیا جائے، اسی طرح معاشرے کے افراد اور طبقات کو کار خیر کے لیے بھی آمادہ کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کی خدمت کر سکیں۔ صدر مملکت نے مالی وسائل بڑھانے کے لیے تعلیمی اداروں میں ریسرچ کو کمرشلائز کرنے اور گرانٹس و پراجیکٹس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب پاکستان کے مستقبل کے لئے ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلاحی ریاست کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ہر شعبے میں مساوات قائم ہو اور اسے سرپرستی حاصل ہو،

ریاست محروم طبقات کے لیے سرپرست کی حیثیت رکھتی ہے۔ بعد ازاں وائس چانسلرز کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ اور آنے والے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں ہر شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنا ہوگی، ٹیکنالوجی میں تربیت کی فراہمی کے ذریعے ہم نہ صرف اپنی ملکی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں بلکہ تربیت یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت برآمد کر کے خطیر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے صدر مملکت کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں دلچسپی اور ان شعبوں کی ترقی کے لیے کاوشوں اور عزم کو سراہا۔ معاون خصوصی نے احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پراجیکٹ کے اغراض و مقاصد کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام وزیراعظم اور حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے جس میں 134 ذیلی منصوبے شامل ہیں، ان پروگراموں کو موثر طریقے سے بروئے کار لانے کے لیے متعلقہ شعبوں کے بااعتماد شراکت داروں کا تعاون حاصل کیا گیا ہے جس کے حوصلہ افزاءنتائج حاصل ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں