لاہور: جج ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات، ایف آئی اے کا ن لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ پر چھاپہ

لاہور: (صاف بات) جج ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات، ایف آئی اے کا ن لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ پر چھاپہ

ایف آئی اے اسلام آباد کی 4 رکنی ٹیم نے ن لیگ کے ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ پر چھاپہ مارا، ایف آئی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر اعجاز احمد نے کی۔ ذرائع کے مطابق یہ چھاپہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس کے سلسلے میں مارا گیا اور اس کا مقصد کیس کے سلسلے میں مواد اور اس حوالے سے کی گئی مریم نوازکی پریس کانفرنس کاریکارڈ قبضے میں لینا تھا۔ خیال رہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ایف آئی اے نے ن لیگ کے رہنماؤں پرویز رشید اور عظمیٰ بخاری کو 30 دسمبر کو جب کہ عطاء اللہ  تارڑ کو 27  دسمبر طلب کررکھا ہے۔ ایف آئی اے کے چھاپے کے بعد  ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ کے باہر ن لیگ کے کارکن جمع ہوگئے اور قیادت کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیے۔ ایف آئی اے ٹیم کی روانگی کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ نے سیکرٹریٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شہبازشریف کے خلاف 56 کمپنیوں سے معاملہ شروع ہوا تھا جو اب چولستان کی بنجر زمینوں تک آپہنچا ہے۔

عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی جانب سے جج ارشد ملک ویڈیوکیس میں ایک کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک قبضے میں لی گئی ہے، یہ عمران نیازی کا اوچھا ہتھکنڈا ہے، اس سے قبل لیگی رہنماؤں کو ایف آئی اے میں طلبی کے نوٹس موصول ہو چکے تھے۔ جج ارشد ملک ویڈیو کیس کے اہم کردار اور ن لیگی کارکن ناصر بٹ کے حوالے سے عطاء تارڑ نے کہا کہ ناصر بٹ کئی دفعہ لندن ہائی کمیشن گئے لیکن ان سے ویڈیو نہیں لی گئی نہ فرانزک ہوا، ناصر بٹ کو اگر سیکیورٹی فراہم کی جائے تو ویڈیو کے ساتھ پیش ہونے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک کو کسی نے کچھ نہیں کہا، ہمیں کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، واجد ضیاء کو ایف آئی اے کو سربراہ لگایا گیا، وہ مسلم لیگ ن کے خلاف کارروائی میں سر گرم ہیں۔ ن لیگی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ہم آپ کی فسطائیت اور فاشسٹ سوچ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، شہریار آفریدی اللہ سے معافی مانگیں اور قوم سے بھی معافی مانگیں، یہ جھوٹےکاغذ دکھا کر ہمارا میڈیا ٹرائل کرلیتے ہیں مگر عدالتوں میں دکھانے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں