تصادم ہوا تو بھی اگلے وزیراعظم عمران خان ہونگے،اعجازشاہ

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں اگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی تو قانون حرکت میں آئے گا، تصادم ہوگا تو بھی اگلا وزیراعظم عمران خان ہوگا، مولانا فضل الرحمان کے کنٹینر کو الگ اور محفوظ رُوٹ دیں گے۔

اسلام آباد میں معاونِ خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے مشترکا پریس کانفرنس کی۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اگر تصادم ہوگا تو بھی اگلا وزیراعظم عمران خان ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ آزادی مارچ 27 اکتوبر کو ختم ہوگیا ہے،یہ مولانا کا مارچ ہے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی تو قانون حرکت میں آئے گا، جوغیرقانونی چیزیں ہوئیں وہ آف دا ریکارڈ بتاؤں گا، میں نہیں چاہتا کہ اس موقع پرماحول خراب ہو۔ وزیرداخلہ نے مزید بتایا کہ 4 دن میں 25 ہزار افراد گوجرخان تک پہنچ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان کے کنٹینر کو الگ اور محفوظ رُوٹ دیں گے کیوں کہ ان پر پہلے بھی حملے ہوچکے ہیں، انھیں  ہر طرح سےسیکیورٹی فراہم کریں گے اور کوشش کریں گے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔ اعجازشاہ نے واضح کیا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ اس طرح کےدھرنےمیں کوئی ناپسندیدہ کام ہو، دھرنےکوسیاسی طریقےسےڈیل کرنا چاہتے ہیں اور یہ نہیں چاہیں گے کہ دھرنے کو انتظامی طریقے سے ڈیل کیا جائے۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف سے متعلق اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا نام ای سی ایل میں نہیں ہے،بندے کی لڑائی تب تک ہوسکتی ہےجب تک وہ زندہ ہو،دعا ہے کہ اللہ سب کو تندرست و توانا رکھے۔ عمران خان سے متعلق وزیرداخلہ نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،حکومت کتنی بھی گئی گزری ہو ایک جتھا اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتا۔ اس موقع پر معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ذمہ  داری سمجھ کے حکومت کی حکمت عملی سامنےرکھیں گے،اس علاقے میں 80 ممالک کے سفارتخانےاور40 ممالک کےقونصلیٹ ہیں،اسلام آباد میں 7 ہزار سفارتکار رہائش پذیر ہیں، ان سب کی سیکیورٹی یقینی بنانا ریاست اورحکومت کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مارچ والوں کوپیغام دیناچاہتے ہیں کہ یہ 7ہزارسفارتکار دنیا کو پاکستان سے ملاتے ہیں،حکومت کی کوششوں سے 11 سال بعد اسلام آباد کو فیملی اسٹیشن قرار دیا گیا،اس کے باوجود سیاست کے میدان میں مقابلے کا ہمیں کوئی خطرہ نہیں، اس طرح کےاجتماعات سے دنیا میں پاکستان کا چہرہ داغدار ہوتا ہے۔ فردوس عاشق نے امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمان کا احتجاج پُرامن طور پرختم ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں