اسلام آباد: پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کر زندگی میں کرتارپور جانے کے خواہش کے خواب کو تعبیر دے دی ہے ، پرمندر سنگھ سدھو

اسلام آباد: (صاف بات)پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کر زندگی میں کرتارپور جانے کے خواہش کے خواب کو تعبیر دے دی ہے ، پرمندر سنگھ سدھو

سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی آخری آرام گاہ کی یاترا کیلئے پہلی مرتبہ امرتسر سے کرتارپور آئے سکھ یاتری پرمندر سنگھ سدھو نے کہا کہ ہماری دعائیں رنگ لے آئیں اور پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کر زندگی میں کرتارپور جانے کے خواہش کے خواب کو تعبیر دے دی ہے جس پر پاکستان کے شکرگزار ہیں ۔کرتار پور آمد کے موقع پر برطانوی نشریاتی ادارے کو اپنے ایک انٹرویو میں پرمندر سنگھ سدھو نے کہا کہ زندگی بھر سے میری دلی خواہش تھی کہ کرتارپور صاحب کی یاترا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے پرکھوں سے بھی یہی سنا تھا کہ کے وہ کرتارپور جانے کے خواہشمند رہے لیکن بھارتی سرحد پر کھڑے ہو کر دور سے ہی درشن کرکے واپس چلے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ کرتارپور صاحب جانے کی خواہش پوری ہو رہی ہے اور پہلی مرتبہ بابا گرو نانک کی آخری آرام گاہ پر حاضری کا موقع مل رہا ہے جس پر دلی مسرت ہو رہی ہے جس کا الفاظ میں بیان ممکن نہیں۔

انہوں نے کہاکہ کرتارپور صاحب جانے کی تیاریاں پہلے سے کر رکھی تھیں اور اب اس خواب کو حقیقت میں تبدیل ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ پرمندر سنگھ سدھو نے مزیدکہا کہ ہماری دعائیں رنگ لے آئی ہیں ، اس سے قبل ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کھانا سامنے پڑا ہو اور اسے کھانے کا موقع ہی نہ ملے ۔ انہوں نے کہا کہ کرتارپور صاحب وہ جگہ ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی ہمارے پہلے گرو بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 17، 18برس بسر کئے اور کھیتی باڑی کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلی مرتبہ پاکستان میں کرتارپور آیا ہوں اور پہلی مرتبہ یاترا کا موقع ملا ہے گوردوارہ کے اندر اور باہر دونوں اطراف اپنے مہاراج بابا گرو نانک کی ”سیوا” کی ہے ۔جہاں مسلمان بھائیوں کی طرف سے بابا گرونانک کی آدھی چادر کو دفنایا گیا ہے وہ جگہ بھی دیکھی ہے جہاں بہترین انداز میں پربندھ چل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان حالات بہتر ہوں گے اور باقی بھی تمام گردواروں کے درشن کا موقع مل سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں