مرکزی جلسہ کل نماز جمعہ کے بعد ہوگا، اکرم درانی

حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے جلسہ کے بارے میں پھیلی کنفیوژن دور کرتے ہوئے وضاحت کردی ہے کہ اپوزیشن کا مرکزی جلسہ کل نماز جمعہ کے بعد ہوگا۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متضاد بیانات کے بعد اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ رہبر کمیٹی کی مشاورت سے اپوزیشن کا جلسہ کل جمعہ کے بعد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آزادی مارچ جاری ہے۔ ملک بھر سے قافلے اسلام آباد مسلسل پہنچ رہے ہیں۔ کرم خان درانی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن بھی رش کی وجہ سے جمعہ کی صبح ہی اسلام آباد پہنچ پائیں گے۔ اس لئے جلسہ نماز جمعہ کے بعد رکھا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قافلوں کی آمد اپنے نظام الاوقات کے مطابق جاری ہے جس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ قائدین کی ہدایات واضح ہیں، انہیں پر کاربند رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔ قوم کی امنگوں، خواہشات اور امیدوں پر پورا اتریں گے۔ اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا انہوں نے مارچ میں شامل کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افواہ ساز فیکٹریوں سے محتاط رہیں اور اتحاد ویک جہتی سے اصل مقصد پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ کارکنان اپنے جذبے اور ولولے اسی انداز میں بلند اور جاری وساری رکھیں۔ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکے کی ضرورت ہے جو قوم دینے کے لئے آگئی ہے۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ رہبر کمیٹی کے فیصلے بعد کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔ ہم اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، اس لیے آج ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ خیبر پختونخوا سے عوامی نیشنل پارٹی کا قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا ہے جسے کشمیر ہائی وے پر سیکیورٹی فورسز نے روک دیا جس کے باعث قافلے کے شرکا پیدل جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہوگئے جبکہ اسفندیار ولی خان اور میاں افتخار حسین کو جمعیت علمائے اسلام کے رہنما غفور حیدری نے اپنی گاڑی میں متبادل راستے سے جلسہ گاہ پہنچایا۔ عوامی نیشنل پارٹی کا قافلہ جلسہ گاہ پہنچتے ہی میاں افتخار حسین نے کارکنان سے خطاب شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے لڑائی لڑنی ہے تو ہمیں وقت پر لڑائی لڑنا ہو گی۔ اسلئے ہم وقت پر پہنچ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں