اسلام آباد :ناقص پاليسيوں کی وجہ سے ملکی معشيت تباہ يہ قوم ظالم حکمرانوں سے آزادی چاہتی ہے ۔ فضل الرحمان

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اداروں کو2دن کی مہلت دتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم استعفے دے ديں ہم پرامن طريقے سے واپس چلے جائيں گے۔

 مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے کارکنوں کو2روزتک مزيد دھرنا دينےکی ہدايت کرتے ہوئے کہا کہ استقامت کے ساتھ جمع رہنا ہے استعفے کے مطالبے پر قائم ہيں، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالاگيا ہے فيصلہ بھی عوام نے ہی کرنا ہے، 2 دن تک انتظار کرنا ہے،استعفیٰ نہ ملا تو فيصلہ عوام نے کرنا ہے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت کو جاناہی جانا ہے اداروں کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں، پرامن لوگ ہيں،چاہتے ہيں امن کے دائرے ميں رہيں لیکن یہ مجمع قدرت رکھتا ہے کہ وزيراعظم ہاؤس سے وزير اعظم کو گرفتار کرلے، ہماری بات بلاول، زرداری اور نوازشريف سب سن ليں، ہم جن کوسنانا چاہتے ہيں وہ سب بھي سن ليں،ورنہ انسانوں کاسمندر وزيراعظم کو بھی خود گرفتار کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتيں ايک جذبے کیساتھ جمع ہوئی ہيں، تمام جماعتوں کے قائدين کو خوش آمديد کہتا ہوں، وزيراعظم کے استعفے کامطالبہ زورپکڑتاجارہا ہے،ملک ميں انصاف پرمبنی نظام چاہتے ہيں، عوام کی مرضی ہے وہ جسے چاہے منتخب کريں۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے اليکشن کے نتائج ناقابل قبول ہيں، 25 جولائی 2018کے اليکشن کالعدم قرارديے جائيں، نااہل حکمران زيادہ دير ملک نہيں چلاسکتے، ناقص پاليسيوں کی وجہ سے ملکی معشيت تباہ ہوچکی، يہ قوم ظالم حکمرانوں سے آزادی چاہتی ہے، پاکستانی معیشت پر ایسے لوگ بٹھائے جائیں گے جو مغرب کو خوشحال بنائیں اور پاکستانی معیشت کو ان کا گروی بنائیں گے، انہوں نے پاکستانی معیشت کو غلام بنادیا، ہم پاکستان کی غلام معیشت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ فلسطینیوں کی حمایت ہے، آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، قائد اعظم نے فلسطینیوں کی زمین پر یہودیوں کے قبضے کی مخالفت کی تھی،اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا پہلا بنیادی نکتہ نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کا خاتمہ تھا۔ کشمیر کے حوالے سے مولانا کا کہنا تھا کہ ظالم حکمرانوں نے کشميرکا بھی سودا کرديا ہے، کشميريوں کی جنگ عوام لڑيں گے، ظالم حکمرانوں نے کشمير کا بھی سودا کرديا ہے،کشميری عوام کبھی خود کو تنہا محسوس نہ کريں۔ فضل الرحمان کہا جاتا ہے نوازشريف،آصف زرداری کرپٹ ہيں، عالمی رپورٹس پڑھ ليں کرپشن ميں مزيد اضافہ ہوچکا ہے، تم لوگ کرپشن کيا ختم کروگے تم نے اس ميں مزيد اضافہ کرديا ہے،ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی کی کرپشن کا خاتمہ دور درکنار موجودہ حکومت میں اس میں مزید اضافہ ہوگیا، کرپشن کے خاتمے کی باتیں کرنے والے خود کرپٹ اور چوروں کے چور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور مذہب کو جدا نہيں کياجاسکتا، کہا جاتا ہے ہم مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہيں، آپ کون ہوتے ہيں مغرب کوخوش کرنےوالے؟ پاکستانی آئین ہمیں مذہب کی بات کرنے کی آزادی دیتا ہے، آپ کون ہوتے ہوئے ہمیں اسلام کی بات سے روکنے والے آپ کون ہوتےہيں ہميں روکنےوالے؟ پاکستان ہے تو اسلام ہے،اسلام ہے تو پاکستان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں