مولانا طے شدہ معاہدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں،سربراہ مذاکراتی کمیٹی

مولانا معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کیلئے قائم کی گئی حکومتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بات چیت میں وزیراعظم کے استعفیٰ کا کوئی ذکر نہیں تھا، یہ مطالبہ مضحکہ خیز ہے، ہم کسی کو نہیں منائیں گے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام  میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات میں وزیراعظم کے استعفیٰ کا ذکر نہیں تھا، مولانا فضل الرحمان اپنے معاہدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، بات چیت ہوگی تاہم ہم کسی کو نہیں منائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کی زیر قیادت آزادی مارچ کا 27 اکتوبر 2019ء کو کراچی سے شروع ہونیوالا قافلہ پانچویں دن اسلام آباد پہنچا، ایچ نائن پارک میں جے یو آئی ف، مسلم لیگ نواز، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد حکومت کیخلاف احتجاج کا حصہ ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو 2 دن میں اپنی غیر جانبداری واضح کرنے اور عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ نجی ٹی وی سے  گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے واضح کیا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ مطالبہ مضحکہ خیز اور غیر ضروری ہے، مظاہرین بیٹھے رہیں استعفیٰ نہیں ملے گا۔ وزیر دفاع نے اپوزیشن جماعتوں کی ناکامی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ تاثر ایسا دیا جارہا تھا جیسے یہ پورا پاکستان لے کر پہنچیں گے، 9 پارٹیاں 70 ہزار لوگ جمع کرلیں تو بڑی بات نہیں، ہماری نظر میں یہ لوگ ناکام ہوچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماء کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے مظاہرین معاہدے کی پاسداری کریں گے، آئین اور عدالتوں کی خلاف ورزی کرنا غلط ہوگا، معاہدے کی خلاف ورزی سے اگر افراتفری پھیلی تو اس کے ذمہ دار یہ لوگ ہوں گے، ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی، پوری قوم کو کہتا ہوں کہ یہ لوگ ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا انہیں پر امن طور پر طے شدہ مقام تک آنے دیا، قانون کی خلاف ورزی پر سیکیورٹی ادارے قانون کے مطابق ایکشن لیں گے، مظاہرین کو آگے نہیں آنے دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں