وزیر اعظم عمران خان آج بھی پاکستان کے عوام اور دنیا میں مقبول ترین لیڈر ہیں

اسلام آباد ۔ (سٹاف رپورٹ)  معاون خصوصی وزیر اعظم برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آج بھی پاکستان کے عوام اور دنیا میں مقبول ترین لیڈر ہیں، جب کوئی عالم دین وعدہ خلافی کرتا ہے تو وہ دگنا اور ناقابل معافی جرم ہوتا ہے، اپنے عمل سے مولانا فضل الرحمن نے ثابت کیا کہ انہیں صرف اسلام کی ٹھیکیداری چاہئے اور اسلام کے اصولوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں، جس بغاوت کا جلسہ میں اعلان کیا گیا یہ آئین سے غداری ہے، شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے آج مولانا کو اپنا لیڈر تسلیم کر لیا اور ثابت کیا کہ ان کی آواز پر عوام لبیک کہنے کیلئے تیار نہیں، ملین کا دعویٰ کرنے والوں کی ملین کی گردان دم توڑ گئی ہے اور وہ اپنے پاور شو دکھانے میں ناکام ہو گئے، خود کو سیکولر جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی عمران خان کے بغض، حسد اور عناد میں ایک ہی گھاٹ پر پانی پی رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آج بھی پاکستان کے عوام اور دنیا میں مقبول ترین لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج قوم نے سب سے بڑی وعدہ خلافی دیکھی ہے، اسلام ہمیں ایفائے عہد کا درس دیتا ہے لیکن مولانا فضل الرحمن نے آج ہر قسم کے معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہے تو وہ اس کی پاسداری کرتا ہے لیکن جب کوئی اپنے آپ کو عالم دین کہے اور عالم دین اپنے عہد کو توڑے تو اس کا جرم دگنا اور ناقابل معافی ہوتا ہے کیونکہ وعدہ خلافی کرنا، وعدہ توڑنا اور اپنی کمٹمنٹ سے ہٹ کر اپنے مفاد کی جدوجہد میں اسلام کے بنیادی اصولوں کی نفی کرنا یہ ایک بہت بڑا جرم ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ پوری قوم نے دیکھا کہ جو شخص اسلام اور دین کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے نکلا تھا اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ اسے صرف اسلام کی ٹھیکیداری چاہئے اور اسلام کے اصولوں سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ جس انداز میں اس نے اپنا وعدہ توڑا اور بغاوت کا اعلان کیا یہ آئین سے غداری ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ جس میں وہ خود ہوں وہ پارلیمنٹ حلال اور جس میں وہ خود نہ ہوں وہ پارلیمنٹ حرام ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سیاسی جماعتوں کے لیڈروں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے بھی مولانا فضل الرحمن کو آج اپنا لیڈر تسلیم کر لیا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کی آواز پر عوام لبیک کہنے اور ان کی آواز سننے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج انہیں مولانا کے ادھار کے سٹیج پر آ کر اپنا درد بیان کرنا پڑا، اس کا مطلب ہے کہ سیاست کا 12واں کھلاڑی جس کو اس کے اپنے حلقہ کے عوام نے مسترد کر دیا آج اس کو انہوں نے اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی جو خود کو سیکولر جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی تھیں بھی عمران خان کے بغض، عناد اور حسد میں مولانا کے ساتھ ایک ہی گھاٹ پر پانی پی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ یہ سب اکٹھے ہوں گے اور آج وقت نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان نے درست کہا تھا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 15 سیاسی جماعتیں مل کر 2، 2 ہزار لوگ بھی نکالتیں تو پھر بھی وہ اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتیں، ملین کا دعویٰ کرنے والے آج گنتی کرا کر ثابت کر دیتے کہ ملین کی جو ان کی گردان تھی وہ دم توڑ گئی ہے اور وہ اپنے پاور شو دکھانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلسل پانچ دن سڑکوں پر دھکے کھا کر، لوگوں کو آوازیں لگا کر، مدرسوں کے بچوں کو گمراہ کرکے ہر طرح کا مذہبی کارڈ استعمال کرکے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے اور ناکام ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دگنی تعداد تو وزیراعظم عمران خان کے گلگت بلتستان کے ایک جلسہ میں جمع ہو گئی جو گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہ کسی کو بسیں دی گئیں اور نہ کسی کو کھانے اور نہ پیسے دیئے گئے اور صرف عمران خان کی محبت میں لوگ نکلے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر کی محبت اور مال کی محبت میں فرق ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں