اداروں کو غیرجانبدار دیکھنا چاہتے ہیں، ہماری اس خواہش کا احترام کیا جائے,مولانا فضل الرحمان

  مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان پر ترجمان پاک فوج کےبیان کے درعمل مں کہا ہے کہ فوج غیرجانبدارادارہ ہے،غیرجانبدارہی رہناچاہیےتھا۔ آئی ایس پی آر نے خود ثابت کردیا ادارے سے میری مراد کیا تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مولانا فضل الرحمان کےبیان کے جواب میں انہیں فوج پر الزام تراشی کے بجائے الیکشن میں دھاندلی کی شکایت متعلقہ اداروں کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔ گزشتہ شب اپوزیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ میں پوچھتا ہوں آئی ایس پی آرنےکس بنیاد پربیان دیا؟ آئی ایس پی آرنےخودثابت کردیا ادارے سے میری کيا مراد تھی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آرفوج کےنمائندے ہیں، یہ بیان تو کسی سیاستدان کو دینا چاہتے تھا۔ فوج توغیرجانبدار ادارہ ہے جیسے کہ انہوں نے خود فرمایا۔ چند دن پہلے عمران خان نے کہا تھا فوج میری پشت پر ہے ،فوج کو اس بیان پراپنا موقف واضح کرنا چاہیے تھا۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اداروں سےتصادم نہیں چاہتے، تمام سياسی جماعتيں اس بات پر متفق ہيں کہ يہ غيرجمہوری اورغير آئينی حکومت  ہے۔ ايسے اليکشن چاہتے ہيں جس ميں فوج کا کوئي کردار نہ ہو۔ اگر بطور ادارہ انہوں نے ماضی میں کوئی غلطی کی ہے تو ہم اس پربات نہیں کرنا چاہتے فضل الرحمان نے مزید کہا کہ اداروں کو غیرجانبدار دیکھنا چاہتے ہیں، ہماری اس خواہش کا احترام کیا جائے۔پوری قوم اس حکومت کو دھاندلی کی پیداوار کہتی ہے۔آزادی مارچ کا احترام ہونا چاہیے، بیانات سے عزائم تبدیل ہونگے نہ ہی ہمارے ارادے۔ انہوں نے کہا کہ کل ( 2 اکتوبر) رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا اور آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے تجاویز طے کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں