اسلام آباد :8گرفتاریاں،کارکنان کی فوری رہائی کیلئےاپوزیشن کاالٹی میٹم

  • آزادی مارچ  کے شرکاء کی جانب سے طالبان کے جھنڈے لہرانے پر انتظامیہ نے 8 افراد گرفتار کرلیے ہیں، دھرنے والوں نے گرفتار کرنے والوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا ہے،بصورت دیگر کسی پابندی کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کی دھمکی دی ہے۔

    آزادی مارچ نے نیا رخ اختیار کیا۔ دو روزہ دھرنے پر موجود شرکاء میں سے کچھ عناصر کی جانب سے افغان طالبان کے جھنڈے لہرائے گئے جس پر انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 8 افراد گرفتار کرلئے۔ دھرنے کے منتظمین نے گرفتار ہونے والوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے کچھ افراد کو صبح سے لے کر گئے ہیں جنہیں ابھی تک واپس نہیں کیا گیا، اگر ہمارے بندے ایک گھنٹے تک نہ آئے تو ہمارا معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ جے یو آئی کے رہنماء مولاناعبدالغفورحیدری نے میڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ ہم نے ایسے کوئی جھنڈے نہیں دیکھے،یہاں صرف 9 جماعتوں کے جھنڈے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری صفوں میں 10 ہزار ایسے رضاکار بھی ہیں جن کو میں خود بھی نہیں جانتا،وہ خفیہ طور پر تخریب کاروں پر نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ  ہم سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں،عمران خان سے جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ آزادی مارچ کی ممکنہ پیشقدمی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے رابطے جاری ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اے این پی رہنماء میاں افتخار سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ میاں افتخار نے اسپیکر کو کہا ہے کہ رہبر کمیٹی اجلاس کے بعد آپ کو جواب دوں گا۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ مار دھاڑ نہیں ہونی چاہیے اس پر میاں افتخار نے جواب دیا کہ ہم ویسے ہی عدم تشدد کے علمبردار ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنماء  نیئر بخاری نے درانی ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ نے ملاقات کے لیے رابطہ کیا تھا،انہیں بتایا ہے کہ رہبر کمیٹی کا اجلاس ہے اس کے بعد دیکھتے ہیں، رہبر کمیٹی میں جس چیز پر اتفاق ہوا اسے پارٹی قیادت کے سامنے رکھا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل پرمشاورت ہوگی۔ اس کے علاوہ حکومت کو 2 دن کے الٹی میٹم کے بعد سيکيورٹی ادارے چوکس ہیں۔ شہرميں حفاظتی پہرے مزيد سخت کردئیے گئے ہیں۔داخلی وخارجی راستوں پر نفری میں اضافہ کردیا گیا ہے۔آئی جی اسلام آباد کی سربراہی ميں سیکيورٹی اداروں کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کيلئے حکمت عملی تیارکی گئی۔ امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کيلئے اسلام آباد پولیس کے 12ہزار، ایف سی کے8 ہزار جبکہ رینجرز کے3 سو جوان ڈیوٹی پرمامور ہيں۔ ریڈزون بدستورسیل ہے۔جلسہ گاہ کے اطراف ميں موبائل اورانٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل ہے۔ فیض آباد، ٹی چوک، موٹر وے ٹول پلازہ سمیت شہر کے تمام داخلی وخارجی راستوں پر تعينات اہلکاروں کو چوکنا رہنے کی ہدايت کی گئی ہے۔اعلیٰ افسران نے واضح کیا ہےکہ شہریوں کے جان ومال پر کسی بھی صورت سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں