اسلام آباد:طالبان کا جھنڈا لہرایا تو بڑی بات ہو گئی طالبان کو امریکا اور روس نے بلا کر پروٹوکول دیا۔ مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد:(سٹاف رپورٹ) مولانا فضل الرحمان نے مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج رہبر کمیٹی نے طے کیا ہے کہ ڈی چوک تک جانا بھی تجاویز میں شامل ہے‘۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا، ہم جانتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے معاہدے کو توڑ دیا گیا، یہ ہم ہیں جو اس معاہدے کو پال رہے ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی ناکام خارجہ پالیسی سے ہم نے کشمیر کھودیا‘۔ آزادی مارچ میں طالبان کی موجودگی سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’یہاں پر کسی نے طالبان کا جھنڈا لہرایا تو بڑی بات ہو گئی، یہ بھی ہمارے جلسے کے خلاف سازش ہے، انتظامیہ فساد کی کوشش کر رہی ہے لیکن ہم ایسا کوئی موقع نہیں دیں گے‘۔ مولانا نے مزید کہا کہ ’ان ہی طالبان کو امریکا اور روس نے بلا کر پروٹوکول دیا، پاکستان میں بھی انہیں صدارتی پروٹوکول دیا گیا‘۔ گزشتہ روز جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزير اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی اور اس مہلت کا آج پہلا دن ہے۔ آج ہونے والے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے استعفے پر متفق ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں، ملگ گیر شٹر ڈاؤن اور ہائی ویز کو بلاک کرنے سمیت دیگر آپشنز زیر غور ہیں۔ فضل الرحمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وزیراعظم نے دو روز میں استعفیٰ نہ دیا تو یہ اجتماع قدرت رکھتا ہے کہ خود وزیر اعظم کو گھر جا کر گرفتار کر لے البتہ ہم پُرامن لوگ ہیں چاہتے ہیں کہ پُرامن رہیں، اداروں کے ساتھ کوئی لڑائی یا تصادم نہیں،اداروں کا استحکام چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ادارے بھی غیر جانب دار رہیں۔ خیال رہے کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے کہ اپوزیشن اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں جلسہ کرے گی اور وہاں سے آگے نہیں بڑھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں