وزيراعظم کااستعفیٰ اور فوج کے بغير اليکشن، دونوں مطالبے نامناسب ہيں، وفاقی وزير داخلہ اعجاز شاہ

وفاقی وزير داخلہ اعجاز شاہ نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے مطالبات کو نامناسب قرار ديديا۔

نجی ٹی وی  کے پروگرام  میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزير داخلہ برگيڈيئر ريٹائرڈ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ وزيراعظم کااستعفیٰ اور فوج کے بغير اليکشن، دونوں مطالبے نامناسب ہيں، انہوں نے واضح کیا کہ فوج کے بغير اليکشن نہيں ہوسکتے۔ فضل الرحمان کے آزادي مارچ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ان کے کچھ مطالبات بالکل غيرمناسب ہيں، انہوں نے یہ بھی بتاديا کہ ملکی تاريخ ميں پہلی بار حکومت اور فوجی قيادت ایک پیج پر ہے، وزیراعظم اورآرمی چیف کی کیمسٹری اچھی ہے۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بااصول آدمی قرار ديا کہا کہ کوئی بات غلط لگتی ہے توجنرل قمرجاويد باجوہ منہ پرکہہ ديتے ہيں، جنرل باجوہ غلط کو غلط، درست کو درست کہنے والے انسان ہیں۔ دھرنے کے شرکا سے متعلق ان کاکہنا تھا کہ دھرنے کی ابتداميں شرکا کی تعداد زيادہ تھی اب کم ہوچکی ہے، پہلے دن پچاس ہزار افراد آئے جو اب رات کے وقت آٹھ سے دس ہزار رہ جاتے ہیں جبکہ دن ميں تعدادبڑھ جاتی ہے۔ وفاقی وزيرداخلہ کا کہنا تھا کہ دھرنا سياست کو اب ختم ہوجانا چاہيے، امید ہے دھرنااحسن طریقے سے ختم ہوجائیگا،دھرنے کے بیشتر شرکا کو معلوم ہی نہیں وہ آئے کیوں ہیں؟ دھرنے کی وجہ سے کشمیرکا معاملہ پیچھے چلاگیا۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ نواز شريف،مريم نواز اور کيپٹن صفدر کا نام اي سي ايل ميں ہے، حکومت نے نہيں نيب نے ان تينوں کے نام ای سی ايل ميں ڈالے، جو ای سی ايل ميں شامل کرائے وہی نام نکال سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں