کشمیرکو2 حصوں میں تقسیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،ترجمان دفترخارجہ

 کرتارپور راہداری سے متعلق کسی قسم کی منفی سوچ نہیں چاہتے، کشمیرکو2 حصوں میں تقسیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،بھارتی حکومت ہندو توا کے نظریے پر گامزن ہے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ ترک صدر کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کو حتمی شکل دینے کیلئے کام ہورہا ہے، ترک صدر جلد پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں۔ کرتارپورراہدری سے متعلق انھوں نے کہا کہ یہ صرف وزیراعظم پاکستان کا اقدام ہے،بھارت بعد میں شامل ہوا، پاکستان کی جانب سے بابا گرو نانک کے جنم دن پر خصوصی سکہ جاری کیا جائے گا،کرتا پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں 10 ہزار لوگ آئیں گے،سیاست دان نوجوت سدھو کو بھی ویزا جاری کردیا ہے ، امید ہے کہ وہ بھی آئیں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ کرتارپور راہداری سے متعلق کسی قسم کی منفی سوچ نہیں چاہتے۔ بھارت سے متعلق ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 4 لوگوں کو شہید کر دیا،کشمیر میں قابض فوج نے مکمل لاک ڈاؤن کر رکھا ہے، ایل او سی کی خلاف ورزی پربھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکوطلب کیا گیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان، تقسیم کشمیر کو مسترد کرتا ہے، کشمیرکو2 حصوں میں تقسیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،بھارتی حکومت ہندو توا کے نظریے پر گامزن ہے اور کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے بھارت لوگوں کو بسانا چاہ رہا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کےنئےجاری نقشےکو مسترد کرتے ہیں،بھارت نےنقشے میں آزاد کشمیر اور گلگت کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پرپاکستان عمل درآمد کیلئےمسلسل کوشش کررہا ہے،امید کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کیطرف سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جائے گا۔ خطے کی صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب،یمن معاہدے کے نتیجہ میں خطےمیں تناؤاورکشیدگی میں کمی آئیگی،  ایران کے معاملےپرمفاہمت کا عمل جاری ہے، مثبت نتائج ملنے کی امید ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کابل میں پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے،سفارت کاروں کی گاڑیوں کو سڑکوں پر روک کر ہراساں کیا جاتا ہے، کونسلر آفس نے ایمرجنسی کیلئے ویزہ سروس شروع کر دی ہے،افغان حکومت سے معاملہ پر کابل اور اسلام آباد میں احتجاج کیا ہے،افغان حکومت پاکستانی سفارت کاروں کی سیکیورٹی یقینی بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں