اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف کو معلوم تھا کہ انہیں کسی بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ظفر الحق

اسلام آباد:(صاف بات) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ایجنڈے پر بحث کا آغاز ہوا جس میں اپوزیشن نے نیب کارروائیوں کا معاملہ سینیٹ میں اٹھایا۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ ‘نیب کی طرف سے جو طریقہ کار اپنایا جارہا ہے اس سے ملک کے اندر تقسیم اور بدنظمی کی صورتحال رہے گی، اگر کسی کے خلاف کیس ہے تو عدالت سے قبل اس شخص کو میڈیا پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم یہ نہیں کہتے کہ جس نے جرم کیا ہے اسے بچایا جائے، بدقسمتی سے نہ صرف عام لوگوں کی طرف سے بلکہ سپریم کورٹ کی طرف سے بھی اس عمل کو یکطرفہ عمل قرار دیا گیا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کرنا اور لوگوں کو بدنام کرکے جیلوں میں ڈال کر تضحیک کرنا درست نہیں۔راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کی گرفتاری بھی سب کے سامنے ہے کہ کس طرح انہیں گرفتار کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ‘خواجہ آصف کو میٹنگ کے دوران بلا کر کہا گیا آپ کو کچھ لوگ بلا رہے ہیں اور خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انہیں علم تھا کہ ان کو کسی بھی وقت حراست میں لیا جا سکتا ہے’۔اس موقع پر قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ نیب کو استعمال کیا جاتا ہے، چیئرمین نیب ہمارے لگائے ہوئے نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ ماضی کی طرح بلاتفریق اس عمل کو آگے لیکر چلیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘خواجہ آصف اور پاناما کا ایک ہی پیٹرن ہے، ان کیسز میں الزامات نہیں دستاویزات ہیں’۔شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ ‘یہاں پر جعلی کمپنیاں بنائی گئیں، ملازمین کے نام پر جعلی اکاونٹس بنوائے گئے، اپوزیشن کو چاہیے کہ اداروں پر حملہ آور نہ ہو بلکہ اپنا نام کلیئر کرکے خود کو سرخرو کریں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستانی عوام آپ کو مسترد کرتی جا رہی ہے، عوام نے بادشاہت اور وراثتی سیاست کو یکسر مسترد کردیا ہے’۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘مریم نواز کہتی ہیں لندن کیا پاکستان میں بھی ان کی جائیداد نہیں اور پھر وہ جعل سازی میں پکڑی جاتی ہیں، ہر روز ایک نیا جھوٹ اور نیا اسکینڈل سامنے آتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مریم نواز بے نظیر بھٹو کے مزار پر گئی، توقع تھی وہ معذرت کریں گی کہ جو ان کے خاندان نے بینظیر پر تہمتیں لگائی تھیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن کا استعفوں کا ڈرامہ ناکام ہوچکا، سینیٹ کا الیکشن ہوگا اور تحریک انصاف اکثریت کے ساتھ اس ایوان میں آئے گیجے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا غفور حیدری نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ملک میں احتساب کے نام پر انتقام کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، نیب نے بغیر کسی ثبوت کے سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالیں اور انہیں قید کیا، یہ بلیک میل کرنے کا ایک ادارہ ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مولانا فضل الرحمٰن آج تک صدر یا وزیر اعظم نہیں بنے، ان کا قصور یہ ہے کہ اس شخص (عمران خان) کو جس نے سلیکٹ کیا ، مولانا ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘مولانا انہیں کہتے ہیں کہ سیاست سیاستدانوں کا کام ہے آپ کا نہیں، فوج کو سیاست میں لاکر تم بدنام کیوں کر رہے ہو، ہر بات کے بعد کیوں کہتے ہو کہ فوج ہمارے ساتھ کھڑی ہے’۔

مولانا غفور حیدری کا کہنا تھا کہ ‘فوج کے پیچھے چھپ کر حکومت نہیں چلائی جا سکتی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ٹکرے ٹکرے ہو جائیں گے نیب میں پیش نہیں ہوں گے، ہم ایسے نیب کے ادارے کو نہیں مانتے جو ہماری پگڑی اچھالے ہمارا ٹرائل کرے’۔تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید کا کہنا تھا کہ ‘ماضی میں نیب اور پارلیمان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، پانامہ کیس نیب کی پریس ریلیز پر شروع نہیں ہوا، جعلی اکاونٹس کیس کیا عمران خان نے بنایا تھا؟’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہاں کہاں جاتا ہے کہ نیب کی کیا مجال جو ہم سے پوچھے’۔ان کی بات پر اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر کرشنا کماری نے کہا کہ مراد سعید نے ماسک نہیں پہنا انہیں ماسک پہننے کا کہیں جس پر چیئرمین سینیٹ نے مراد سعید کو ماسک پہننے کی ہدایت کی۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ ‘کہا گیا کہ اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں تو کیا ہوا، آپ ملک کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع ہیں تو اقامہ کیوں رکھتے ہیں؟’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جعلی اکاونٹ کیس پر جے آئی ٹی ہے، کیا یہ کیس عمران خان نے بنایا تھا؟’۔انہوں نے کہا کہ ‘محترمہ بے نظیر کی حکومت میں وہ وزیر بنے اور مسٹر 10 پرسنٹ قرار دیے گیے، سندھ کی ترقی کا پیسہ کس طرح جعلی اکاونٹ کی نظر ہوا اور منی لانڈرنگ کے زریعے باہر گیا’۔

ان کی تقریر پر پیپلز پارٹی دوبارہ اپنی بینچز پر کھڑی ہوگئی اور احتجاج کرنے لگی جس پر مراد سعید نے کہا کہ ‘میں نے کسی کا نام نہیں لیا’۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کیس میں سوال یہ ہے کہ آپ وزیر دفاع اور وزیر خارجہ ہو تو آپ اقامہ کیوں رکھتے ہو، خواجہ آصف کی اسلام آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں جائیدادیں ہیں، ان کی آمدن ایک لاکھ ہے اور جائیداد ایک ارب کی کیسے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پوری دنیا میں آپ نے جائیدادیں بنائیں اور یہاں سے کِک بیکس لیں، کیا جواب دینے کی بجائے آپ اداروں کو نشانہ بنائیں گے؟’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف غلط مہم ہم نے نہین چلائی، ان کی تصویر ہیلی کاپٹر سے ہم نے نہیں پھینکیں، آج یہ عمران خان اور انکی اہلیہ کے بارے میں غلط باتیں کر رہے ہیں ہم نے ایسی باتیں بھی کبھی نہیں کیں’۔انہوں نے یاد دلایا کہ ‘اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے خلاف ووٹ دیا، کرپشن کے دستاویز کو نہیں مانا، یہ سڑکوں پر نکل کر سرکس لگاتے ہیں، یہ پاکستان کی فوج، عدلیہ اور پارلیمنٹ کو نشانہ بناتے ہیں، یہ کراچی میں اردو بولنے والوں کے خلاف بولتے ہیں اور لاہور میں پنجاب کے خلاف، انہیں این آر او کبھی نہیں ملے گا’۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘جو حکومت غیر آئینی ہو اس کے سارے فیصلے اور کام غیر آئینی ہیں، نیب کے کارناموں، سیاہ کرتوت پر سینیٹ میں دس دن بحث ہونی چاہیے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘انسانی حقوق کے ادارے کہتے ہیں کہ نیب حراست میں 12 سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘افغان جنگ میں جو جنرل، خفیہ اداروں کے لوگ ملوث تھے ان کا آمدن سے زائد اثاثوں کا ریکارڈ لے کر آئیں، ان کے اثاثے کھربوں میں ہوں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئین سے غداری کی، ان کے آمدن سے زائد اثاثوں کی تفصیلات دیں، نیب کو گوانتاناموبے کی طرح بنایا گیا ہے جس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘نیب چئیرمین کو حکومت جو کہتی ہے وہ کرنے پر مجبور ہیں، ججز ریٹائرڈ جنرلز، مسلم ممالک کی افواج کے سربراہ سابق آرمی چیف کے اثاثے دیکھ لیں آپ حیران رہ جائیں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اپوزیشن مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اسٹیبشلنبٹ کو مجبور کرے گی کہ وہ سیاست میں مداخلت نہ کرے، اب پارلیمنٹ اسٹیبشلنبٹ نہیں عوام کی طاقت سے آئے گی’۔ان کا کہنا تھا کہہ محمود اچکزئی نے جو کراچی میں کہا وہ ٹھیک کہا ہے، صحیح تاریخ بیان کی ہے، ملتان کے مخدوم کے آباؤ اجداد کے بارے میں معلوم کر لیں کہ کون انگریز کی فوج میں تھے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں