ملک لوٹنے والوں پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان

 میں نے ریاست مدینہ کی بات الیکشن کے بعد کی، میں نہیں چاہتا تھا کہ لوگ بولیں کہ یہ ووٹ کے لیے ایسی باتیں کر رہا ہے۔ ملک لوٹنے والوں پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان

 اسلام آباد میں انٹرنیشنل رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایمان کا سفر بہت بڑا ہے، یہ ایک سمندر کی طرح ہے۔ والد صاحب مجھے زبردستی نماز جمعہ کے لیے لے جاتے تھے،والد کی عزت کرتا تھا اس لیے مسجد چلا جاتا تھا، تاہم بعد میں احساس ہوا کہ یہ کتنا ضروری ہے۔ اسلام آباد صرف ہمیں مذہب ہی نہیں ہماری مکمل زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک لوٹنے والوں پر رحم اور انہیں معاف نہیں کرسکتا کیونکہ این آر او دے دے کر معاشرے کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے۔ ہمارے رستے میں مافیا بیٹھے ہیں، سیاست، میڈیا اور بیوروکریسی میں یہ لوگ بیٹھے ہیں، ہم جدوجہد کرکے اس مافیا کو شکست دیں گے۔ لوگ کہتے ہیں مجھ میں رحم نہیں اور مجھے چاہیے کہ جن بدعنوانوں نے ملک کو قرضوں میں ڈبو کر کنگال کردیا انہیں معاف کردوں، لیکن انہیں معاف کرنا اور ان پر رحم کرنا میرا کام نہیں، کرپٹ لوگوں نے میرے نہیں قوم کے پیسے چوری کئے ہیں، رحم کمزور اور غریب طبقے کے لیے ہوتا ہے، بڑے ڈاکوؤں پر رحم نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے بھی کرپٹ لوگوں کو عبرت ناک سزائیں دیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لوگ دنیا میں رول ماڈلز ڈھونڈتے ہیں، اسکول میں مجھے کبھی نہیں سکھایا گیا کہ ہمارے رول ماڈل نبی اکرمﷺہونے چاہئیں، ہماری تعلیم ہمیں نبی اکرمﷺ کی طرف نہیں لے کر گئیں، اسکول میں کوئی اور رول ماڈل تھے، فلمی اداکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کو رول ماڈل سمجھا جاتا تھا، ہم تعلیمی نظام ٹھیک کریں گے اور آپﷺکی جدو جہد کا بتائیں گے، چاہتے ہیں بچے بچے کو علم ہو حضور اکرمﷺنے معاشرے کو کیسے تبدیل کیا، افسوس کی بات ہے ہمارے ہاں اس بارے میں نہیں پڑھایا جاتا، ہمیں اپنے بچوں کو تاریخ کا مطالعہ کرانا ہوگا، مسلمان گھر میں پیدا ہو کر مسلمان کہلانا کافی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی آپ ﷺ کے قریب لوگ تھے وہ سب عظیم انسان بن گئے، یہ معجزہ ہے کہ آپ ﷺ کے وصال کے 6 سال بعد دونوں سپر پاورز نے اسلام کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ ریاستِ مدینہ کی بنیاد پر صدیوں تک مسلمان دنیا پر چھائے رہے، اگر قوم کو عظیم بننا ہے تو ریاست مدینہ کے اصول پر چلنا ہے۔ پیسہ بنانا مشن نہیں، پیسے سے انسانوں کی زندگی بہتر بنانا مشن ہے، آپ ﷺ آخر وقت تک مسجد نبوی ﷺ میں اپنے حجرے میں رہے کوئی محل نہیں بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں