کوئٹہ: وزیر اعلی بلوچستان کیخلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تحریک منظور ہوگئی۔

کوئٹہ:(صاف بات) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تحریک منظور ہوگئی۔تحریک کے متن میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ جام کمال کو عہدے سے ہٹایا جائےاور اُن کی جگہ پر اکثریت رکھنے والے رکن اسمبلی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے ۔جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے رکن عبدالرحمان کھیتران نے کہاکہ بلوچستان اسمبلی 65 ارکان کا ایوان ہے۔تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت کے حوالے سے تحریک کو 65 ایوان میں 33 ارکان کی حمایت مل گئی۔تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت کو 33 ارکان کی حمایت ملنے پرعبدالرحمان کھیتران نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ تو ہوگیا،ہمارے پانچ ارکان پارلیمنٹ لاپتہ ہیں ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے محرک کو وزیراعلیٰ کے خلاف ایوان میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی جازت دے دی۔رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نےجام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کی خراب حکمرانی کے باعث مایوسی، بدامنی، بیروزگاری، اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خود کو عقل کل سمجھ کر اہم معاملات کو مشاورت کئے بغیر چلارہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان اپنے طور پر صوبے کے معاملات چلارہے ہیں، اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر چلانے سے صوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔عبدالرحمان کھیتران نے یہ بھی کہا کہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خراب کارکردگی پر وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹایا جائے۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے اراکین سے تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پر بحث کے لیے نام مانگ لیے۔اس سے قبل بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر ریونیو سلیم کھوسہ کی بھابھی کےایصال ثواب کیلئے فاتحہ پڑھی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں