کراچی:متنازع بلدیاتی بل:سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان معاہدہ ہوگیا

کراچی:(صاف بات) سندھ حکومت کا وفد جمعرات 27 جنوری کو رات گئے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے دھرنے میں پہنچا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوتا رہا، جب کہ مذاکراتی کمیٹی سے اچھے ماحول میں گفتگو ہوتی رہی، آج ایک مسودہ بنا لیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے بھی مسودے کے نکات کی تصدیق کرتے ہوئے معاہدے کے پڑھ کر سنائے۔ناصر شاہ نے مزید بتایا کہ جن معاملات پر نوٹی فیکیشن جاری کرنا ہوں گے ایک سے دو ہفتوں میں ایسا کر دیا جائے گا ۔ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات درجہ ذیل ہیں۔صحت سے متعلق ادارے دوبارہ بلدیاتی اداروں کو دے دئیے جائیں گے۔

صوبائی حکومت یو سی کو ماہانہ اور سالانہ فنڈز کی فراہمی آبادی کی بنیاد پر ہوگی۔تحریری معاہدے کے مطابق تعلیم سے متعلق ادارے بلدیاتی اداروں کے سپرد کر دیئے جائیں گے۔صوبائی فنانس کمیشن بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سنبھالنے کے بعد دیا جائے گا۔موٹر وہیکل ٹیکس سے حاصل رقم شہری حکومت کے حصے کے مطابق ادا کی جائے گی۔بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز میں میئر اور چیرمینز کو اختیارات دئیے جائیں گے۔سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میئر کراچی کے ماتحت ہوں گے۔معاہدے کے تحت کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کیلئے سندھ حکومت بلدیہ عظمیٰ کی بھرپور مدد کرے گی۔کراچی میں اضافی پانی کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے گا۔جماعت اسلامی کے مطالبہ پر سندھ حکومت طلبہ یونین کے کو بحال کرے گی۔جن نکات پر اتفاق نہیں ہوا اس کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں