اسلام آباد:پرویز مشرف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور کرپشن کی انکوائری نہ کرانے پر چیئرمین نیب سے جواب طلب ۔

اسلام آباد:(صاف بات) ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق پرویز مشرف کے ایک اکاؤنٹ میں 20 لاکھ ڈالرز موجود تھے۔درخواست گزار نے کہا کہ اس عدالت نے آرڈر پاس کیا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف نیب آرڈی ننس کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے اس کے باوجود چیئرمین نیب نے کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس عدالت کا فیصلہ چیلنج ہوا ہے؟ وکیل نے بتایا کہ فیصلہ چیلنج نہیں ہوا اور وہ حتمی صورت اختیار کر گیا ہے۔درخواست گزار نے کہا کہ پرویز مشرف نے اربوں روپے کی زمین خود حاصل کی اور ہزاروں ایکڑ اراضی مختلف کنٹونمنٹس میں غیر قانونی طور پر الاٹ کی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا کہ لاکھوں ڈالرز کے عوض پاکستانی شہریوں کو اغوا کر کے امریکیوں کے حوالے کیا۔ سابق جنرل نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ غیر ملکی سربراہ مملکت کی جانب سے ایک ارب امریکی ڈالر وصول کیے مگر اسے توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف نیب آرڈی نینس کے تحت کارروائی کے لیے 2013ء میں 2اپریل، 10 اپریل اور 20 نومبر کو دستاویزی ثبوتوں کے ہمراہ شکایات بھجوائیں، 25 اپریل 2013ء کو نیب نے کہا کہ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے جی ایچ کیو سے رابطہ کیا جائے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اس خط کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ ریٹائرڈ آرمی افسر کے خلاف نیب آرڈی نینس کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود نیب پرویز مشرف کے خلاف شکایت پر کارروائی نہیں کر رہا، عدالت سے استدعا ہے کہ عدالتی حکم عدولی پر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔بعدازاں عدالت نے نیب کی تحقیقات نہ ہونے پر چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 فروری تک جواب طلب کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں