اسلام آباد: امریکی جنگ کا حصہ بننا غلط پالیسی تھی،ہمارا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا، کوئی پاکستانی نائن الیون میں ملوث نہیں تھا،۔وزیر اعظم عمران خاں

اسلام آباد:(صاف بات) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیشہ آزاد فارن پالیسی کا حامی رہا ہوں، یہ کہتا رہا کہ امریکی جنگ کا حصہ بننا غلط پالیسی تھی، جس ملک کی حمایت کی، اسی نے ہمارے ملک پر 400 ڈرون حملے کئے، اس جنگ میں شرکت پر 80 ہزار جانوں اور 150 ارب ڈالر نقصان کے ساتھ بڑی قیمت ادا کی۔ وزیراعظم نے پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے بجٹ تک قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، گریجویٹ نوجوانوں کو 30 ہزار روپے کی انٹرن شپس اور نوجوانوں کو 26 لاکھ اسکالر شپس دیں گے۔وزیراعظم عمران خان قوم سے اہم خطاب کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے پاکستانیوں میں آج آپ کے سامنے اس لئے حاضر ہوا ہوں کیونکہ دنیا میں بڑی تیزی سے صورتحال بدل رہی جس کے پاکستان پر بھی اثرات پڑ رہے ہیں، حالیہ دنوں سمیں چین اور روس کے دو دورے کئے، سب سے پہلے فارن پالیسی پر بات کرنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ میرے ماں باپ غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے، جب بڑا ہورہا تھا تو انہوں نے اس بات کا احساس دلایا کہ میں ایک آزاد ملک میں پیدا ہوا ہوں، جب سے سیاست شروع کی ہمیشہ خواہش تھی کہ پاکستان کی فارن پالیسی آزاد ہو، آزاد فارن پالیسی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قومی فائدے کیلئے فارن پالیسی بنائی جائے، دوسروں کے فائدے کیلئے نہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا کے ساتھ وار آن ٹیرر میں حصہ لے کر غلط پالیسی اپنائی، ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا، کوئی پاکستانی نائن الیون میں ملوث نہیں تھا، تب سے کہتا رہا کہ اس میں شرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔عمران خان نے کہا کہ پہلے سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کیخلاف امریکا کی جنگ میں شرکت کی، دس سال بعد اسی ملک کیخلاف امریکی حملے میں دہشت گردی کے نام پر ان کا ساتھ دیا، اس فارن پالیسی کی وجہ سے 80 ہزار پاکستانیوں کی شہادت ہوئی، 35 لاکھ افراد نے نقل مکانی کی، 150 ارب ڈالر کا ملک کو نقصان ہوا۔ اس کی سب سے شرمناک بات یہ تھی کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ملک کسی کی حمایت میں جنگ لڑرہا ہے اور وہ ملک اسی ملک پر بمباری کررہا ہے، ہمارے ملک پر 400 سے زائد ڈرون حملے کئے گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ شرمناک چیز یہ ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹرز استعمال کرنا سپر پاور کیلئے آسان ہوتا ہے لیکن پرویز مشرف کے دور میں صرف 10 ڈرون حملے ہوئے، ڈیموکریٹک لیڈرز آصف زرداری اور نواز شریف کے ادوار میں 400 حملے ہوئے، آزاد پالیسی یہ ہونی چاہئے تھی کہ ڈیموکریٹک لیڈرز کو امریکا کو کہنا چاہئے تھا کہ ہمارے بے قصور لوگ مر رہے ہیں، دونوں نے ایک بیان نہیں دیا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی صحافی نے کتاب میں لکھا کہ امریکی جنرل کو زرداری نے کہا کہ ڈرون حملوں میں کولیٹرل ڈیمیج سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ اس لئے ہوتا ہے جب ملک کے سربراہوں کی دولت اور جائیداد باہر ہوتی ہے، آف شور کمپنیاں، اربوں ڈالرز کے اکاؤنٹ اور جائیداد رکھنے والے کبھی قومی مفاد کی بات نہیں کرتے وہ اپنے پیسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، آج روس کے ایسے بڑے بزنس مینوں جن کے پیسے باہر ملکوں میں ہیں وہ ضبط کئے جارہے ہیں۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ آزاد فارن پالیسی چاہتے ہیں تو اپنی قوم کو کہنا چاہتا ہوں کہ جب ووٹ ڈالیں تو اس پارٹی کو ووٹ نہ ڈالیں جن کے سربراہان کے پیسے ملک سے باہر پڑے ہیں وہ کبھی آزاد پالیسی نہیں بنائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ جتنے بھی دورے کئے وہ انتہائی اہم تھے، روس اور چین میں بہت عزت ملی، وقت ثابت کرے گا یہ دورے پاکستان کے مستقبل کیلئے فائدہ مند ہوں گے، روس سے 20 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنی ہے، روس ایسا ملک ہے جس میں دنیا کی تیس فیصد گیس ہے، ہم نے ان سے گیس امپورٹ کرنے کے معاہدے کئے ہیں، سی پیک کے دوسرے فیز سمیت چین سے معاملات جلد قوم کے سامنے آجائیں گے۔وزیراعظم نے پیکا قانون میں ترمیم پر تنقید اور مخالفت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آزادی صحافت پر پابندی کا شور مچا ہوا ہے، سب کو بتا دوں کہ پیکا 2016ء میں بنا، اس میں صرف ترمیم کررہے ہیں، ایسا سربراہ جس نے کرپشن نہ کی ہو اور قانون نہ توڑا ہو اسے کبھی آزاد صحافت اور میڈیا سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا، آج بھی اخبارات دیکھ لیں 70 فیصد خبریں ہمارے خلاف لگی ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون اس لئے لے کر آئے ہیں، سوشل میڈیا پر گند آرہا ہے، دنیا میں کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسی چیزیں نہیں آتیں، 94 ہزار کیسز ایف آئی اے کے پاس پڑے ہیں، اب تک 38 کیسز کا فیصلہ ہوا ہے، عام لوگوں کو چھوڑیں ملک کے وزیراعظم کو بھی نہیں بخشا جارہا، تین سال پہلے ایک صحافی نے لکھا کہ ان کی بیوی گھوڑ چھوڑ کر چلی گئی کیونکہ عمران خان نے بنی گالہ میں کوئی غیر قانونی کام کیا ہے، کیس کئے تین سال ہوگئے، ابھی تک وزیراعظم کو انصاف نہیں مل سکا، وہی صحافی ایک بار پھر لکھتا ہے کہ وزیراعظم کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی، جب یہ وزیراعظم کے ساتھ ہوسکتا ہے تو سوچے باقی لوگوں کا کیا ہوگا، نواز شریف کیخلاف لکھنے پر اسی صحافی کو تین دن بند کرکے ڈنڈے مارے گئے تھے، ہم تو قانونی آپشن کی طرف جارہے ہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ نجی میڈیا گروپ نے شوکت خانم پر الزام لگایا کہ ان کا پیسہ تحریک انصاف کے پاس جارہا ہے، کسی نے اسپتال سے جا کر تصدیق نہیں کی، ایسا ہی حنیف عباسی کیخلاف ایک کیس 10 سال پہلے شوکت خانم نچلی عدالتوں سے جیت چکی ہے، اب شوکت خانم لندن میں نجی میڈیا گروپ کیخلاف کیس کرنے جارہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آزادی صحافت کے نام پر یہاں مافیا بیٹھ کر بلیک میل کررہے ہیں، ان کے ایجنڈے کچھ اور ہیں، کچھ صحافی پیسے لے کر گند اچھال رہے ہیں، ہمیشہ تنقید کا سامنا کیا، انگلینڈ میں بھی ہرجانے کا کیس لڑا، جتنی غیر ذمہ دارانہ چیزیں ہمارے ہاں ہوتی ہیں کہیں نہیں ہوتیں، اس کا آزادی صحافت سے کوئی تعلق نہیں، اچھے صحافی خود چاہتے ہیں کہ فیک نیوز ختم ہو، اچھی صحافی معاشرے کا اثاثہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں