اسلام آباد:او آئی سی کے حوالے سے دھمکی آمیز بیان پر ذمہ داروں کےفون پرپوری اپوزیشن90کی ڈگری پرلیٹ گئی،شیخ رشید

اسلام آباد:(صاف بات) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا او آئی سی اجلاس سے متعلق اپوزیشن کے دھمکی آمیز بیان پر کہنا ہے کہ کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے تو او آئی سی کو روک کر دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کا ایک فون آیا اور آپ لیٹ گئے کہ ہم تو ساتھ ہیں، ہم تو اس (او آئی سی کانفرنس) کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، اب بولو نا، اگر ہمت ہے تو آکر بتاؤ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے دھواں دھار اننگ کھیلی۔ مخالفین پر برستے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جو او آئی سی کیخلاف بات کرتا ہے، اس پر لعنت ہے۔ بلاول کہتے ہیں وہ دھرنا دیں گے، اپنی شکل دیکھو۔ بلاول کے سیاست میں ابھی دودھ کے دانت بھی نہیں نکلے، کہہ رہےہیں دھرنا دیں گے۔ کوئی حادثہ ہوا تو رہنماوں کیخلاف ایف آئی آر دوں گا۔ سندھ ہاؤس میں جو کچھ ہوا اس کی مذمت کرتا ہوں۔ سندھ ہاؤس واقعہ میں ملوث افراد پر مقدمات درج کیے ہیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ تمام ہاؤسز، لاجز وغیرہ دو اپریل تک رینجرز کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔انہوں نے اپوزیشن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی مائی کا لعل او آئی سی کی کانفرنس میں مداخلت کر کے دکھائے۔ میں اس کو بتاؤں گا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا اور ان کی چیخیں آسمان تک سنائی دیں گی یہ پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ وہ سامراجی ایجنٹ ہے وہ بھارت کی خواہش کو خبر بنانا چاہتا ہے، شہباز شریف صاحب یہ نہ ہو کہ آپ کی اچکن 10 سال کے لیے نیکر میں بدل جائے۔

شیخ رشید نے کہا کہ کوئی سوچ سکتا ہے کہ دنیا کا کوئی سیاستدان ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان دے گا کہ ہم او آئی سی کانفرنس نہیں ہونے دیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز 19 مارچ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشترکہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو دھمی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پیر تک تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں کارروائی شروع نہیں کی گئی تو ایوان میں دھرنا دیں گے جہاں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس شیڈول ہے۔ بعد ازاں اپوزیشن کے مشترکا لائحہ عمل سے بیان سے لاتعلقی ظاہر کی گئی تھی۔شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن ٹھیک کہہ رہی ہے کہ اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن کے بعد 14 روز میں اجلاس بلانے کی حتمی تاریخ 21، 22 مارچ بنتی ہے لیکن اسی اسمبلی نے 21 جنوری کو قرار داد منظور کی تھی کہ 22 اور 23 تاریخ کو اسمبلی کا ہال او آئی سی اجلاس کے لیے وزارت خارجہ کے پاس رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے لیے 15 ہزار سیکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں حفاظت پر مامور ہوں گے۔اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ذمہ داروں کا ایک فون آیا تو آپ (اپوزیشن والے) 90 کے زاویے سے لیٹ گئے۔ اگر ہمت ہے تو بولو ناں۔تحریک عدم اعتماد سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر مخصوص حالات میں اجلاس کو مؤخر کر سکتا ہے۔

منحرف اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ میں ناراض ارکان اسمبلی کو کہتا ہوں مال ان کا کھاؤ اور کام عمران خان کا کرو، میں آپ کا وکیل ہوں۔ ووٹوں اور نوٹوں کے سودوں نے نواز شریف کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کو ڈبو دیا ہے۔ میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ اتحادی بھی سوچنے اور مشاورت کے بعد عمران خان کا ساتھ دیں گے۔اسمبلی سیشن سے متعلق انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اسپیکر تحریک عدم اعتماد ختم نہیں کرسکتا لیکن آئین کی دفعہ 254 کے تحت اگر حالات کا تقاضہ ہو تو وہ اس کی کارروائی کو آگے بڑھا سکتا ہے جس پر کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں۔ اپوزیشن کے جلسوں کو سیکیورٹی فراہم کریں گے، اسلام آباد کی اہم سرکاری عمارتوں کی سیکیورٹی رینجرز اور ایف سی کے پاس ہے، اٹارنی جنرل ریفرنس دائر کر رہے ہیں جو قانونی معاملہ ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سارے چینلز کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر نے 25 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے، اس میں 7 روز کا اضافہ کرلیں تو 31 مارچ یا یکم اپریل بنتی ہے، مجھے یقین ہے، میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ حکومتی اتحادی بھی مشاورت کے بعد عمران خان کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جو اصلی اور نسلی ہوگا وہ اس وقت عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوگا، آج کے بعد تمام اہم عمارات کی سیکیورٹی 2 اپریل تک کے لیے ایف سی اور رینجرز کے حوالے کردی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں