اسلام آباد:میری حکومت جائے یا میری جان جائے، کبھی ان چوروں کو معاف نہیں کروں گا، وزیراعظم

اسلام آباد:(صاف بات) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ ’امر بالمعروف‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نے جلسے کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک نظریہ کے تحت وجود میں آیا، اور وہ نظریہ اسلامی فلاحی ریاست ہے، مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ تم دین کو سیاست کے لیے کیوں استعمال کرتے ہو، 25 سال قبل جماعت کی بنیاد اسی نظریہ پر ڈالی کہ ملک اسلامی فلاحی ریاست بنے۔انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ٹیکس جمع ہوتا جائے گا وہ سارا پیسہ قوم کی مجموعی ترقی کے لیے استعمال ہوگا، جب تک نظریے پر کھڑے نہیں ہوں گے قوم نہیں ہجوم ہوگا، ریاست مدینہ میں قانون کی حکمرانی تھی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہ میں اپوزیشن رہنماؤں کو اس لیے این آر او نہیں دیتا کیونکہ قانون کی بالادستی نہیں رہے گی، غریب اس لیے غریب نہیں بلکہ وہ اس لیے غریب ہوتا ہے کیونکہ قانون کی گرفت سے بڑے چور نکل جاتے ہیں اور یہ تین چوہے اکٹھے ہوئے ہیں 30 سال سے ملک کا خون چوس رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے آف شور اکاؤنٹس موجود ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سابق صدر جنرل مشرف کی طرح عمران خان بھی پیچھے ہٹ جائے اور این آر او دے دیں، پہلے دن سے بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آج جو قرضوں کی مد میں سود ادا کررہے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پروز مشرف نے انہیں این آر او دیا تھا، حکومت جائے یا جان کبھی ان چوروں کو معاف نہیں کروں گا۔عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی حکومت اتنی ایسی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جیسا ہم نے 3 برس میں برسراقتدار آکر دیے، ڈیزل کی قیمت 10 روپے کم کی ہے، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کورونا وبا سے نمٹنے میں کامیاب ہوئے جبکہ مجھ پر تنقید ہوئی اور حکومت سندھ نے وفاقی کی بات نہیں مانی لیکن ساری دنیا کورونا وباکے دوران پاکستان نے اٹھائے جانے والے اقدامات کو قابل ستائش نظروں سے دیکھا ہے۔

انہوں نے عالمی رپورٹ کا حوالہ دے کر کہا کہ پاکستان میں سب سے کم مہنگائی ہے، تھری اسٹوجزوالی پوزیشن میں ایک چیری بلاسم ہے، ڈیزل دوسرا ہے، تیسری بیماری ہے اور چوتھا بھگوڑا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نےکہا کہ پہلی مرتبہ 50 سال کے بعد بڑے ڈیمز بن رہے ہیں، 2025 تک مہمند ڈیم تعمیر ہوجائے اور خیبرپختونخوا فائدہ پہنچے گا، 2027 میں دوسرا بڑا ڈیم بنے گا، 2028 میں بھاشا ڈیم تعمیر ہوگا اس سے ملک میں آبی ذخائر دگنا ہوجائے گا اور دیہاتوں سمیت شہروں میں پانی دے سکیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو مخاطب کرکے کہا کہ ’انہوں نے ایک گھنٹہ بھی کام نہیں کیا‘ جبکہ دوسری طرف کانپیں ٹانگنے والے کو 14 برس سے اردو میں بات کرنا نہیں آئی، آصف علی زرداری کو تھوڑا بڑا کرکے بلاول کو سیاست میں آنے کی اجازت دینی تھی۔انہوں نے کہا کہ نالہ لئی کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائی گے، اینکرز سے کہتا ہوں خدا کے وسطے معیشت کے ماہرین کو بلالیں، 30 سال سے حکومت کرتے رہے کسی نے ماسٹر پلان پر کام نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو پاکستان لے کر آئے اور وہ 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کارکررہی ہے، ریکوڈک منصوبے کا سب سے زیادہ پیسہ بلوچستان کو ہوگا، جرمانہ ہوجاتا تو بیرون ملک اثاثے ضبط ہوجاتے،ہم نے 2 ہزار ارب روپے جرمانے ختم کرایا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف خود نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے خود کنٹرول کیا ہوا تھا، 2013 میں فی کلومیٹر اور 2021 میں فی کلومیٹر پر آنے والی لاگت کا تذکرہ موجود ہے، لیکن آپ کو حیرت ہوگی کہ ن لیگ نے 2013 کے مقابلے میں 2021 میں بننے والی سڑکوں کی لاگت فی کلو میٹر 23 کروڑ روپے سستی بنی۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے کرپشن کے نئے دور کا آغاز کیا اور ان کے دور میں 23 کروڑ روپے فی کلومیٹر زیادہ مہنگی تھی، مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن کی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم غیرت مند ہیں لیکن اس کے حکمران بے غیرت ہیں، میں کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا اور اپنی قوم کا سر نیچا نہیں ہونے دوں گا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک کو ہمارے پرانے رہنماؤں کے کرتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ہمارے ملک میں موجود لوگوں کی وجہ سے حکومتیں تبدیل کرتی جاتی رہی، ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی، فضل الرحمن اور بھگوڑا نواز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنادیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج اسی بھٹو کے داماد ’آصف علی زرداری سب سے بڑی بیماری‘ اور اس کا نواسہ ’کاپنیں ٹانگ رہی ہیں‘ دونوں کرسی کی لالچ میں اپنے نانا کی قربانی کو بھلا کر ان کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی وکالت کررہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرکے کہا کہ ’شرم کرو‘، ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کو موڑ نے کے لیے بیرون ملک سے متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ جو آج قاتل اور مقتول کو اکٹھے کرنے والوں کے بارے میں بھی علم ہے لیکن آج وہ ذوالفقار علی بھٹو والا ٹائم نہیں ہے بلکہ بدل چکا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم سب سے دوستی کریں گے کسی سے دشمنی نہیں کریں گے، ہمارے ملک میں باہر کے پیسوں سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لوگ ہمارے استعمال ہورہے ہیں، زیادہ تر انجانے میں لیکن کچھ جان بوجھ کر ہمارے خلاف پیسہ استعمال کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں