اسلام آباد: نادان دوست بہت نقصان کرتا ہے جب کہ دانا دشمن نادان دشمن سے بہتر ہوتا ہے شہباز شریف

اسلام آباد:(صاف بات)پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نادان دوست بہت نقصان کرتا ہے جب کہ دانا دشمن نادان دشمن سے بہتر ہوتا ہے اور عمران نیازی پر یہ محاورہ بہت اچھا بیٹھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب کی آڑ میں بدترین سیاسی انتقام لیا گیا، احتساب کے نام پر درجنوں مقدمات درج کیے گئے لیکن ایک بھی مقدمہ ثبوت کے ساتھ پیش نہ کرسکے۔شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ بین الاقوامی سازش ہوئی ہے، میں ان کی تقریر نہیں سنتا، انہوں نے عوام کے ذہن کو زہر آلود کرنے کی کوشش کی، آپ کو شرم آنی چاہیے کہ پونے چار سال کے بدترین انتقام کے بعد نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف کرپشن کا ایک دھیلا نہیں ملا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اگر ہمارے اربوں روپے کے اثاثے بیرون ملک پڑے ہیں تو لے آتے ناں اور قوم کو دکھاتے، یہ کہنا ہے کہ ڈرون حملوں پر ہم نے بات نہیں کی یہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ میرے خلاف بین الاقوامی سازش ہوئی، دھمکی آمیز خط ملنے پر آپ تین ہفتے خاموش کیوں رہے اور جلسے میں آکر خط لہرا دیا، اگر ایسا تھا تو آپ کو فوری طور پر شور کردینا چاہیے تھا، پہلے کہا امریکا اور پھر کہا کہ نہیں نہیں ! میں کچھ اور کہہ رہا تھا، یہ ڈرامہ بازی آپ کسے دکھا رہے ہیں؟ آپ اتنا ڈرتے ہیں کہ آپ امریکا کا نام خود نہیں لے رہے، آپ کسے بے وقوف بنارہے ہیں؟

شہباز شریف نے کہا کہ آپ دھاندلی کے ذریعے آئے مگر ہم نے آپ کو ہٹانے کے لیے آئینی راستہ اختیار کیا اس پر بھی ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں یہ کون سی جمہوریت ہے؟ اتوار کو آپ کو ایوان میں شکست فاش ہوگی کیوں کہ ہمارے نمبرز مطلوبہ تعداد سے بھی زائد ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ چین کے خلاف کس نے دشنام تراشی کی؟ پرویز خٹک اور اسد عمر نے سی پیک کے خلاف بیانات دیئے، اس وقت کے جنرل راحیل شریف نے پوچھا کہ سی پیک قرضے ہیں؟ جس پر احسن اقبال نے کہا آپ کو کس نے کہا یہ قرضے ہیں، یہ قرضے بھی ہیں اور سرمایہ کاری بھی ہے، پرافٹ اینڈ لاس ان کا وہ سرمایہ کاری کررہے ہیں ان منصوبوں پر، میٹرو اور اورنج لائن 8 فیصد نہیں دو فیصد پر ہے جس پر راحیل شریف حیران رہ گئے تھے۔شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا دوست ہے جس نے اربوں ڈالر بلا کسی شرط کے دیئے، جب کہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ہم سعودی عرب کے بغیر ہی کشمیر کا مقدمہ لڑنے سکتے ہیں، موجودہ حکومت نے بین الاقوامی تعلقات کا تو بیڑہ غرق کردیا۔دھمکی آمیز خط پر انہوں نے مزید کہا کہ یہ خط تین ہفتے قبل 7 مارچ کو آیا، اگر یہ خط امریکا نے لکھا تو آپ نے او آئی سی کانفرنس میں امریکا کی سیکریٹری آف اسٹیٹ کو کیوں بلایا؟ ہم جانتے ہیں یہ آپ کا آخری گھٹیا اور بھونڈا ہتھکنڈا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں