اسلام آباد: کل کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب عمران نیازی نے سویلین مارشل لا نافذ کیا، ع شہباز شریف

اسلام آباد:(صاف بات) متحدہ اپوزیشن کی نیوز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کل کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب عمران نیازی نے سویلین مارشل لا نافذ کیا، عمران خان اور اس کے حواریوں نے آئین کی واضح خلاف ورزی کی ہے، 3 نومبر 2007 کو جنرل مشرف نے بھی یہ ہی حرکت کی تھی۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ 24 مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی منشا کے مطابق عدم اعتماد کو ایجنڈا میں شامل کیا، ایک لیگل عمل کے مطابق ایجنڈا ایٹم مرتب کرواتا ہے، اگر آرٹیکل 5 کے زمرہ میں کوئی چیز آرہی تو 24 مارچ کو اسپیکر نے ایجنڈا میں کیوں شامل کیا، ووٹنگ کل ہر صورت ہونا تھی، عمران نیازی کی آئینی شکنی اور فسطائی سوچ غلط آگئی، پٹی اسپیکر کو عمران نیازی نے آلہ کار بنایا۔ ہم آرٹیکل 5 کے تحت تو سب غدار ہوگئے، یہ لوگ پاکستان کے محب وطن اور ہم غدار قرار پائے، یہ آئین و قانون کے ساتھ مذاق ہے، یہ ہے وہ بنیاد جس کی بنا ہے عمران نیازی نے سازشی ذہن کے ساتھ آئیں توڑا، صدر کو پارلیمان کو تحلیل کرنے کا کوئی حق نہیں تھا آئین توڑ، آرٹیکل 2 ہاوس کی کارروائی کو تحفظ دیتا ہے، اگر آئین توڑا جائے تو یہ معاملہ معمولی نہیں ہے، پورے پاکستان کی گلی محلوں میں احتجاج کریں گے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ اگر کوئی بھاشن امریکا سے آیا تھا یا اس پر اعتراض تھا تو 24 مارچ کو اس پر بات کیوں نہیں کی گئی، اس پر اعتراض کیوں نہیں اٹھایا، یہ سب ایک سوچ سمجھ کے ساتھ کیا گیا، عمران نیازی کو شکست فاش ہونے جارہی تھی یہ اس کا سامنا نہیں کر سکتے تھے، جمہوریت کو مسخ کیا اور آئین توڑا، ہمارے سفیر اسد خان نے ٹوئٹ کیا کہ 16 مارچ کو امریکی سیکرٹری ڈونلڈ لو نے دعوت دی ، دعوت 16 مارچ کو ہوئی اور خط 7 مارچ کو موصول ہوا، 16 مارچ کی دعوت میں شکر ادا ہورہا ہے، یا تو یہ بات غلط ہے جو سفیر نے ٹوئٹ کی، اگر 7 مارچ کو کوئی میٹنگ ہوئی تو 16 مارچ کی دعوت کا شکریہ کس بات کا، یہ دونوں متضاد باتیں ہیں، اگر دھمکی دی گئی تھی 7 مارچ سے لیکر 24 مارچ تک اس وقت آرٹیکل 5 کی بات کیوں نہ کی گئی۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عدالت عظمٰی نے کہا ہے کہ کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے، ماورائے آئین اقدام تو وزیر اعظم، صدر اور اسپیکر اٹھا چکے تھے، چند روز پہلے اٹارنی جنرل نے کہا تھا ووٹرز کو جانے دیں گے، کل بھی انہوں ںے ایک نجی ٹی وی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں