راولپنڈی:جنرل قمرجاویدباجوہ عہدےمیں توسیع نہیں چاہتے،فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں اور باہر رکھیں۔آئی ایس پی آر

راولپنڈی:(صاف بات) ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فارمیشن کمانڈر کانفرنس دو روز قبل ہوئی،اس کانفرنس میں تمام اعلی عسکری قیادت موجود تھی،کانفرنس میں پاک فوج کو درپیش سیکورٹی چیلنجز اور اینٹلی جنس بریفنگ دی گئی۔انھوں نے کہا کہ پاک فوج اور متعلقہ ادارے کسی بھی صورتحال سے نبٹنے کےلیے ہم وقت تیار ہیں۔میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ چند ماہ ميں بلوچستان اورقبائلی علاقوں ميں دہشت گردوں نے امن خراب کرنے کی کوشش کی،تین ماہ کے دوران 128 دہشت گردوں کو ہلاک کيا گيا، آپريشن کے دوران 97 جوانوں نے شہادتيں نوش کيں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری قومی جنگ آخری دہشت گرد کےخاتمے تک جاری رہےگی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ افسران اورجوان مختلف يواين مشن پراپنی جانوں کانذرانہ پيش کرچکےہيں۔ڈی جی آئی پی آر نے کہا کہ جمہوريت،اداروں کی مضبوطی اورسب اداروں کاآئين کےدائرے ميں رہنابہترين ملکی مفادکی ضمانت ہے۔ عوام کی حمایت مسلح افواج کی طاقت کا منبہ ہے،اس کےبغیر قومی سلامتی کا تصور بےمعانی ہے،کوئی بھی دانستہ یا نادانستہ کوشش جو عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کا باعث بنے وسیع تر قومی مفاد کے منافی ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ تعمیری تنقید مناسب ہے لیکن افواہ سازی کی بنیاد پر سازشوں کے تانےبانے بننا اور بےبنیاد کردار کشی کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ اس حوالے سے افواج پاکستان کے خلاف منظم پروپیگینڈا مہم چلائی جارہی ہے اور ریٹائرڈ ملٹری افسران کے جعلی پیغامات پھیلائے جارہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جو کام دشمن 7 دہائیوں میں نہ کرسکا وہ کام اب بھی نہیں ہونے دیں گے،عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں اور باہر رکھیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ مہم نہ پہلے کامیاب ہوئی اور نہ آئندہ کامیاب ہوگی۔بہتر ہوگا کہ فیصلے قانون پر چھوڑ دیں کیوں کہ قانون پر عمل درآمد کرنےسے ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں۔ وقت ہے کہ سب انفرادی اور اجتماعی طور پر اداروں کو مضبوط بنائیں تاکہ باحیثیت قوم درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں۔میجر جنرل نے بتایا کہ قومی سلامتی کميٹی کے اعلاميے ميں کسی سازش کا ذکر نہيں،ملکی اینٹلی جنس ایجنسیاں دن رات ایسی دھمکیوں کے خلاف کام کررہی ہیں تاہم کسی نے پاکستان کی طرف ميلی آنکھ سےديکھاتوآنکھ نکال لی جائےگی اور کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی،ملکی ادارے چوکنا ہیں۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ سے رابطہ کیا گیا تھا۔اس میں بات کی گئی کہ کوئی بیچ بچاؤ کی بات کریں، بدقستمی ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت آپس میں بات کرنے کو تیار نہیں تھی،عسکری قیادت نے وزیراعظم ہاؤس جاکر ملاقات کی اور تین معاملات پر بات کی گئی۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ جاری رکھنے،وزیراعظم کے مستعفی ہونے اور اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد واپس لے کر اسمبلیوں کو توڑ کر نے انتخابات کروانے کی تجویز بھی دی گئی۔ عمران خان نے تیسرے آپشن پر رضامندی ظاہر کی اور پی ڈی ایم سے مشاورت کی تاہم سیرحاصل بحث کےبعد اپوزیشن نے انکار کردیا۔ انھوں نےوضاحت دی کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہ کوئی آپشن دیا گیا نہ رکھا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیوٹرل کا لفظ فوج کو ظاہر نہیں کرتا،پاک فوج کا آئینی اور قانونی کردار حکومت کے اندر کسی قسم کی سیاسی وابستگی یا سیاست میں عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ عوام کا مطالبہ بھی یہ ہی ہےکہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کسی نے يہ نہيں کہا کہ انتخابات ميں فوج نےمداخلت کی ہو۔فوجی اڈوں سے متعلق انھوں نے کہا کہ امریکا نے کسی سطح پر بھی فوجی اڈے نہیں مانگے، اڈے مانگے جاتے تو وہی فوج کا بھی وہی موقف ہوتا جو سابق وزیراعظم کا تھا، بی بی سی نےواہيات اسٹوری شائع کی اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔آرمی چیف سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چيف جنرل قمرجاوید باجوہ عہدے ميں توسيع نہيں چاہتے،نہ آرمی چيف نےعہدےميں توسيع مانگی ہےنہ وہ اس کےحق ميں ہيں،آرمی چیف اس سال29نومبر کوریٹائرہورہے ہیں۔ترجمان پاک فوج نےواضح کردیا کہ پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے اور پاکستان میں اب کبھی مارشل لاء نہیں آئے گا، فوج کسی کو این آر او دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے اوراس حوالے سے ادارے کی کردار کشی ہورہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ روس سے متعلق عمران خان کے دورے پر پاک فوج کو علم تھا اور یہ کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ جب عمران خان وہاں موجود ہونگے تو یوکرین اور روس کی جنگ شروع ہوجائے گی۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کردارکشی کو روکنا حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے،فوج میں کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہے،پوری فوج اپنی لیڈرشپ پر فخر کرتی ہے،پچھلے دنوں جو کچھ ہوا وہ پولیٹیکل پروسس کاحصہ تھا۔انھوں نے مزید بتایا کہ وزيراعظم شہبازشریف کی تقريب حلف برداری کے دن آرمی چيف کی طبيعت ناسازتھی اس لیے وہ تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کا فیصلہ حکومت وقت نے کرنا ہے،جلسےجمہوریت کا حصہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں