اسلام آباد:پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ کل منگل کو سنانے کااعلان

اسلام آباد:(صاف بات)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ سے متعلق کیس کا فیصلہ کل (منگل کو) سنانے کا اعلان کردیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 21 جون 2022ء کو محفوظ کیا تھا۔مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں کئی بار الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنانے کی اپیل کرچکے ہیں جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف تھا کہ دیگر جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیسز کا فیصلہ بھی ساتھ ہی سنایا جائے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ منگل کی صبح 10 بجے سنانے کا اعلان کردیا۔تقریباً 8 سال بعد چیف الیکشن کمشنر سمیت 3 رکنی بینچ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے گا۔پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی رکن اکبر ایس بابر کو فارن فنڈنگ کے معاملے پر اختلاف کے بعد جماعت سے نکال دیا تھا۔اکبر ایس بابر نے 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں اس کیس کی تقریباً 200 سماعتیں ہوئیں۔پاکستان تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ کے معاملے پر وکلاء کی 9 ٹیمیں تبدیل کیں، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 21 جون کو فریقین کے دلائل کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ تمام ریکارڈ اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کی گئیں 9 اکاؤنٹس کی تفصلات سے اکھٹا کیا گیا ہے جبکہ اکبر ایس بابر کی طرف سے 50 کے قریب پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کو درخواست دی گئی تھی۔درخواست گزار کے دعوؤں کے مطابق جن ممالک میں سابق حکمراں جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ حاصل ہوئیں اس میں ڈنمارک، جرمنی، متحدہ عرب امارت، سوئٹزر لینڈ، سویڈن، سنگاپور، نیوزی لینڈ، ہانک کانگ، فن لینڈ، آسٹریا، سعودی عرب اور ناروے شامل ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ان ممالک سے 73 لاکھ سے زائد امریکی ڈالر کے جو فنڈز پی ٹی آئی نے اکھٹے کئے ہیں ان کے ذرائع نہیں بتائے گئے۔رپورٹ میں 90 کے قریب غیرملکیوں اور 200 سے زائد ان غیرملکی کمپنیوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے درخواست گزار کے دعوے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو فنڈز دیئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شاہ خاور کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کی طرف سے جن کمپنیوں اور غیر ملکی افراد پر جماعت کو فنڈز ملنے کے الزامات لگائے گئے ہیں اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاسوں میں ان افراد اور کمپنیوں کے بارے میں تمام تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن غیر ملکی افراد سے متعلق ممنوعہ فنڈنگز کی بات کی جارہی ہے ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے مختلف ممالک میں منعقدہ ڈنرز میں ٹکٹ خرید کر شرکت کی، اس حوالے سے جمع کی گئی رقم ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں نہیں آتی۔درخواست گزار اکبر ایس بابر کی رپورٹ میں بھارتی شہری رومیتہ شیٹھی اور نصیر احمد کا بھی ذکر ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان سے مجموعی طور پر 30 ہزار ڈالرز کی فنڈنگ ہوئی ہے جبکہ اس میں مختلف غیرملکی کمپنیوں کا بھی ذکر ہے۔پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی آخری سماعت 21 جون 2022ء کو ہوئی، اس دوران درخواست گزار اکبر ایس بابر کے مالی امور کے ماہر ارسلان وردگ نے مختلف مالیاتی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ تحریک انصاف کو کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سے فنڈنگ ہوئیں، اس نے 11 اکاؤنٹس تسلیم کئے جو اس نے ظاہر نہیں کئے تھے، پی ٹی آئی نے بیرون ملک سے آئے کئی فنڈز کے ذرائع نہیں بتائے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ڈونرز کی تفصیل نہ ہونے پر پی ٹی آئی وکیل انور منصور اپنے دلائل دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق فنڈنگ کے وقت قانون میں ڈونر کی تفصیل دینا لازمی نہیں تھا۔دوران سماعت کیس کے مدعی اکبر ایس بابر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو جوابدہ بنانے کیلئے یہ بہترین موقع ہے، ایسی جماعتوں اور لیڈرز کو رول ماڈل ہونا چاہئے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ ملک کیلئے جمہوریت سب سے ضروری ہے، جسے مضبوط بنانا ہے، ووٹرز کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے، یقینی بنائیں گے کہ سب کے ساتھ انصاف ہو۔ان کا کہنا ہے کہ میں دل سے دونوں فریقوں کا مشکور ہوں، اس کیس میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے، قومی مفاد کا معاملہ ہے، بہت جلد دیگر جماعتوں کے کیس بھی فائنل ہونگے، یقینی بنائیں گے کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔اسی روز الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کہا کہ انشاء اللہ ہم اس کیس میں سرخرو ہوں گے، 8 سال میں 190 کے قریب پیشیاں ہوئیں، میں نے اپنی زندگی کے بہترین سال پارٹی کو دیئے، ہم نے عمران خان کو وزیراعظم بنانے کیلئے پارٹی نہیں بنائی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں