لیہ:ملزمان اغوا کرکے خود اور کتوں سے ریپ کرایا اور ویڈیوز بھی بنائیں۔ متاثرہ خاتون

لیہ:(صاف بات) جنوبی پنجاب کے شہر لیہ کی ایک خاتون نے دعوی کیا ہے کہ ایک گروہ نے انہیں اسلحے کے زور پر اغوا کرکے کتوں سے ریپ کرایا اور اس کی ویڈیوز بنائی ہیں۔متاثرہ خاتون نے بازیاب ہونے کے بعد لیہ سٹی کے مجسٹریٹ کو درخواست دی ہے جس پر پولیس کو کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔متاثرہ خاتون کے بھائی کی جانب سے درج کرائے جانے والے مقدمے میں کہا ہے کہ ان کی بہن کو اغوا کر کے سات افراد کے گروہ نے نامعلوم مقام پر منتقل کیا، پہلے خود ریپ کیا اور پھر کتوں سے ریپ کرایا اور ویڈیوز بنائیں۔اس معاملے پر آئی جی پنجاب نے نوٹس لے کر کارروائی کے لیے ٹیم تشکیل دی ہے تاہم مقامی پولیس افسر کے بقول واقعہکا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے شروع کر دیے گئے ہیں۔

متاثرہ لڑکی کے پاس جو ویڈیوز ہیں وہ بھی لی جا رہی ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ متاثرہ خاتون اغوا کاروں سے خود ہی رہا ہوئی ہیں۔ سات ملزمان کے نام اور شکل بھی جانتی ہیں۔انہوں نے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرا دیا ہے۔ میڈیکل کے لیے نمونے حاصل کرکے فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوا دیے گئے ہیں تاہم ابتدائی رپورٹ کے مطابق جانوروں کو استعمال کرکے ریپ سے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔سٹی لیہ کے رہائشی تجمل حسین نے گذشتہ روز مجسٹریٹ کی ہدایت پر تھانہ سٹی لیہ میں مقدمہ درج کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی ہمشیرہ کو چار اگست کو 15 ملزمان میں سے ایک نے فون پر کہا کہ ان کی بہن کی عدالت پیشی ہے۔جب وہ اگلے روز عدالت گئیں تو معلوم ہوا کوئی پیشی نہیں تھی لہذا انہیں گھر واپسی پر تحصیل میڈیکل کالج کے قریب سے اسلحے کے زور پر اغوا کیا گیا اور چوک اعظم کے علاقے میں نامعلوم مقام پر لے گئے۔مدعی کے مطابق ملزان نے ان کی ہمشیرہ سے پہلے خود ریپ کیا اور اس کے بعد کتوں سے ریپ کرایا اور ویڈیوز بھی بنائیں جنہیں وہ پورن ویب سائٹس کو فروخت کرتے ہیں۔اغوا کے تین روز بعد آٹھ اگست کو انہیں فون آیا کہ وہ اپنی بہن کی زندگی چاہتے ہیں تو 50 ہزار روپے دیں لہذا انہیں رقم ادا کر کے اپنی بہن کو اس شرط پر رہا کرانا پڑا کہ وہ کسی کو نہیں بتائیں گے اور نہ ہی پولیس کو اطلاع دیں گے ورنہ جان سے ماردیا جائے گا۔

انچارج تھانہ سٹی لیہ عابد حسین نے ،،صاف بات،، کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین نے لاقہ مجسٹریٹ کودرخواست دی تو ان کے حکم پر پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے اور ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔پولیس نے متاثرہ لڑکی کے نمونے حاصل کر کے فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوا دیے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد تصدیق ہوسکے گی کہ خاتون کے الزامات میں کتنی صداقت ہے۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ متاثرہ خاتون کی جانب سے یہ تو بتایا گیا ہے کہ انہیں چوک اعظم لے جایا گیا تھا مگر اس جگہ کی تلاش جاری ہے جہاں واقعہ پیش آیا۔’اس کے بعد معلوم ہوگا ملزمان یہ مکروہ دھندہ کس پیمانے پر کرتے ہیں اور کتنے لوگ اس میں شامل ہیں۔‘عابد حسین نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو تحفظ بھی فراہم کیا جارہا ہے تاکہ ملزموں کی جانب سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں