اسلام آباد:پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں اپنے شہری کی بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کی شدید مذمت

اسلام آباد:(صاف بات) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک پاکستانی شہری کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے کے ناظم الامور (Cd’A) کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا اور راجوری میں بھارتی فوجی اسپتال میں زیر علاج پاکستانی شہری تبارک حسین کے قتل پر شدید احتجاج کیا گیا۔بھارتی ناظم الامور کو کہا گیا کہ ذہنی طور پر معذور پاکستانی شہری تبارک حسین 21 اگست 2022 کو راجوری میں نوشہرہ کے مقام پر نادانستہ طور پر دوسری جانب چلا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھارتی فوج نے اسے بے رحمی سے نشانہ بنایا۔

دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو کہا کہ پاکستان اس بھارتی دعوے کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ تبارک حسین کی موت ‘دل کا دورہ پڑنے’ سے ہوئی تھی کیونکہ بھارتی حکام نے یہ شرانگیز بیان بھی دیا تھا کہ تبارک حسین کو پاکستانی فوج نے بھیجا تھا حالانکہ بھارت کے ان دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں کیونکہ تبارک حسین دماغی صحت کے مسائل سے دوچار تھا، 2016 میں بھی وہ نادانستہ طور پر سرحد پار کر گیا تھا اور 26 ماہ کی طویل قید کی سزا کاٹنے کے بعد اسے پاکستان واپس بھیج دیا گیا تھا۔

بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ اس واقعے نے بھارتی حراست میں دیگر پاکستانیوں کی حفاظت اور سلامتی پر پاکستان کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کیونکہ حال ہی میں بھارتی حکام کے ہاتھوں ایک پاکستانی قیدی محمد علی حسین بھی ماورائے عدالت قتل ہوچکا ہے۔پاکستان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تبارک حسین کی موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے ایک معتبر پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرے۔ پاکستانی قیدی کے قتل کے ذمہ دار کے محاسبے کے لیے شفاف تحقیقات کی جائے۔پاکستان نے اہل خانہ کی خواہش کے مطابق مرحوم کی میت جلد از جلد بھجوانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں