لاہور:منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز نے اپنی بریت کی درخواستیں دائر کردیں۔

لاہور:(صاف بات) آشیانہ، منی لانڈرنگ اور رمضان شوگر مل ریفرنس پر احتساب عدالت لاہور میں سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج ساجد اعوان نے کیس کی سماعت کی۔وزیراعظم شہباز شریف کے وکلا نے نیب کے دو ریفرنسز میں ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست جمع کروا دی، اور درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ شہباز شریف سرکاری مصروفیات کے باعث پیش نہیں ہوسکتے۔فاضل جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ کیس کونسا روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے، کیا شہباز شریف دس منٹ کیلئےعدالت پیش نہیں ہوسکتے، ایک ماہ کی تاریخ تھی اس کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔شہبازشریف کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ ملک میں سیلاب کی صورتحال آپ کے سامنے ہیں، سیلاب نے کافی تباہی کی ہے، اور شہبازشریف سیلاب متاثرین کےعلاقوں کےدورے کررہے ہیں، شہباز شریف پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی۔عدالت نے حکم دیا کہ آج شہبازشریف کے کتنے دورے ہیں تفصیلات عدالت میں پیش کريں۔

شہبازشریف کے وکیل نے جواب میں کہا کہ ہم شہباز شریف کے آج کے دوروں کی تفصیلات کچھ دیرميں جمع کروا دیتے ہیں۔سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز منی لانڈرنگ اور رمضان شوگرمل ریفرنس میں عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہبازشریف اور سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست دائر کردی ہے۔درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ ایف آئی اے نے حقائق کے برعکس چالان میں نامزد کیا، ملزمان کیخلاف کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت منی لانڈرنگ مقدمہ سے ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے۔سماعت کے دوران ایف آئی اے نے سلیمان شہبازکی کمپنی کاریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔

سلمان شہباز کے وکیل امجد پرویز نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے حکم پرکمپنیزکےاکاؤنٹ بھی فریز کرديئے گئے ہیں، عدالت کمپنیز کے اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا حکم دے۔ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت میں مؤقف دیا کہ کمپنیز اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے پر ایف آئی اے کو کوئی اعتراض نہیں۔احتساب عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس نیب کو واپس بھجوا دیا۔عدالت نے نیب ترمیمی ایکٹ کی بنیاد پر ریفرنس نیب کو واپس بھجواتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب ترمیمی ایکٹ کے بعد رمضان شوگر احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔عدالت نے شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پرجواب طلب کرلیا، اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی۔عدالت نے وزیراعظم شہبازشریف کی حاضری معافی کی درخواست بھی منظورکرلی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں