اسلام آباد: پرویز مشرف کیخلاف اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت نے بھی اس کے خلاف اپیل میں جانے کا اعلان

اسلام آباد: (صاف بات )پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت نے بھی اس کے خلاف اپیل میں جانے کا اعلان

اس سے قبل پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ نے بھی فیصلے کیلئے اپیل کا اعلان کیا تھا جس کے لیے ان کے پاس 30 روز کا وقت ہے۔ سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف تفصیلی عدالتی فیصلے کے بعد حکومتی ٹیم نے وفاقی حکومت کا مؤقف پیش کرنے کے لیے پریس کانفرنس کی جس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان ،وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر شریک ہوئے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس فیصلے سے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے بیرونی قوتوں نے سازش کی۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے میں لکھا گیا کہ مشرف کو گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے،اور اگر ایسا نہ ہوسکے اور ان کا انتقال ہوجائے تو ان کی لاش کو 3 دن تک ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ میری سمجھ میں نہیں آیا اس طرح کا فیصلہ دینے کی کیا ضرورت تھی، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جسٹس وقار سیٹھ کے آبزرویشن کو دیکھتے ہوئے جوڈیشل کونسل سےرجوع کیاجائے ۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے جج جسٹس وقار سیٹھ ان فٹ ہیں اور انہوں نے ایسی آبزرویشن دے کر ثابت کیا کہ ذہنی طور پر فٹ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جج ایسی آبزرویشن دیتا ہے تو یہ آئین و قانون کے خلاف ہے، سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ جسٹس وقار کو کام کرنے فی الفور سے روک دیا جائے۔ پریس کانفرنس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و امور داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ آج کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد پیرا 66 کو لےکر میرا سر شرم سے جھک گیا،آپ نے بھی آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے، یہ کس طرح کی چیز لکھ دی ہے جس سے جگ ہنسائی ہوئی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کا کہنا تھا کہ سماعت ملزم کی غیر موجودگی میں نہیں ہو سکتی تھی وہ بھی ہوگئی ،ہمارے اور بھی سنجیدہ تحفظات ہیں، ہم اس کیس میں شریک ملزمان کو شامل کرنا چاہتے تھے، وفاقی حکومت اس معاملے پر اپیل میں جائے گی۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے پیرا 66 میں تو قانون اور آئین کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، آپ نے تو بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ پیرا کس طرح ڈالا گیا، ان جج صاحب کو فی الفور کام سے روکا جانا چاہیے، یہ لمحہ فکریہ ہے،فیصلے کے آخری مراحل کو دیکھنے کی ضرورت ہے،اس فیصلے کے پیچھے تمام محرکات کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں۔شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ آپ نے تو یہ فیصلہ کرکے سارے کیس کو خراب کردیا، یہ آپ کا اپنے ادارے اور دوسرے ادارے پر خودکش حملہ ہے، قانون کے رکھوالوں پر فرض بنتا ہے کہ ہم آہنگی پیدا کریں۔ فروغ نسیم نے کہا کہ ایک جج نے سزا دی لیکن اس نے بھی ڈی چوک پر لاش گھیسٹنے سے اختلاف کیا۔ اس موقع پر شہزاد اکبر نے کہا کہ جس کسی نے لاش کا لکھوایا وہ پاکستان کا دوست نہیں، کسی کی انا کی تسکین کیلئے کس قسم کے کاموں میں پڑچکے ہیں، وفاقی حکومت کو اس پر شدید تشویش ہے، اس قسم کی چیز جب سامنے آتی ہے تو کسی کی بھی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی بالکل ہونی چاہیے، اور سنگین غداری کا مقدمہ بھی بالکل چلنا چاہیے، ہم تو اس مقدمے میں مزید لوگوں کو بھی ملزم بنانا چاہتے تھے لیکن کیس کو جس طرح چلایا گیا اور آخری دنوں میں جس طرح مکمل کیا گیا، ہم اس کے خلاف ہیں، ہمیں اعتراض ٹرائل کے کنڈکٹ پر ہے، فیئر ٹرائل ہونا چاہیے۔فروغ نسیم نے کہا کہ کل انڈین آرمی چف نے کیا من گھڑت باتیں کیں، یہ فیصلہ تو ملک کو سیاہ دور میں لےجانے کی کوشش ہے، ہم ان جج کی اہلیت کو سپریم جوڈیشل کونسل میں چیلنج کریں گے، سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز افتخار چوہدری نے خود بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں