آزادی مارچ کا5 واں روز،گوجرخان سے راول پنڈی کا سفر

آزادی مارچ کےشرکاء جمعرات کو علی الصبح گوجر خان پہنچ گئے۔ ظہر کی نماز کے بعد اسلام آباد کی جانب سفر شروع ہونے کی توقع ہے، 12 بجے قافلے کے شرکاء ناشتہ کرینگے۔ جےیوآئی ف کےامیرمولانا فضل الرحمن کا گوجرخان میں سابق چیئرمین بلدیہ شاہد صراف کے گھر قیام ہے،اگلی منزل کی جانب بڑھنے سے قبل مولانا فضل الرحمن کا خطاب متوقع ہے۔

جمعرات کی صبح آزادی مارچ کے شرکاء لاہور سے طویل سفر کرتے ہوئے گوجر خان پہنچے۔ اس دوران آزادی مارچ نے کئی مقامات پر تھوڑی دیر قیام بھی کیا۔لاہور سے گوجرانوالہ کا تقریباً 60 کلومیٹر کا فاصلہ آزادی مارچ نے 12 گھنٹے میں طے کیا۔ آزادی مارچ کے شرکاء وزیرآباد، گھگرمنڈی،لالہ موسیٰ اور کھاریاں میں بھی رکے۔ مولانا فضل الرحمن نےلاری اڈہ گوجرانوالہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں آنے والے وقت میں کسی کو ہمت نہیں ہوسکے گی کہ وہ ناموس رسالت کو چھیڑے،25 جولائی کوعوام کےمینڈیٹ پرڈاکہ ڈالا گیا،اب تمام سیاسی جماعتیں ایک صف پرکھڑی ہوگئی ہیں،ہم آئین کی بالادستی کی جنگ لڑرہے ہیں اورآج معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کےآزادی مارچ کا قمرزمان کائرہ نےلالہ موسیٰ میں استقبال کیا۔اس دوران مولانا فضل الرحمان نے مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اور اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ آزادی مارچ میں ایک قومی مطالبہ سامنے آیا ہے کہ شفاف الیکشن کرایا جائے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دیگرسیاسی رہنماء اسلام آباد میں آزادی مارچ میں شریک ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں