قصور: دو سال قبل اغواء اور گینگ ریپ کے مقدمہ کا فیصلہ تین ملزمان کو سزائے موت ایک بری

قصور:(کاظم سندھو) دو سال قبل اغواء اور گینگ ریپ کے مقدمہ کاتاریخی فیصلہ دیدیا گیا ۔تین ملزمان کو سزائے موت کیساتھ دو دو لاکھ روپے جرمانہ جبکہ ایک کو بری کردیا گیا ۔ تفصیلات کیمطابق قصور میں تھانہ بی ڈویثرن کے علاقہ عیسی نگر کے رہائشی مستری محمد اسلم کی 14 سالہ بیٹی منیبہ کو 21 اگست 2019 کو اغواء کیا اور ملزم جاوید عرف چاند مسیح کے گھر واقع محلہ عیسیٰ نگر ایک کمرے میں لیجا کر باری باری اپنی شیطانی حوس کا نشانہ بنایا جنسی درندگی کے بعد اسے بحالت بیہوشی باہر لیجا کر پھینک دیا۔

اس افسوسناک واقعہ کا مقدمہ نمبر 571/19بجرم 376/364 متاثرہ بچی کے والد کی مستری اسلم کی مدعیت میں درج کروایا گیا ۔ملزمان کی ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ پازیٹو آئی ۔جس پر آج جینڈر بیس کیس کورٹ کے بااختیار ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بااختیار جج سجاول خاں نے جرم ثابت ہونے دوشیزہ کے اغواء اور زبردستی گینگ ریپ کرنے کی پاداش میں تین ملزمان شمعون ،جاوید ،ہارون مسیح کو استغاثہ کی طرف سےجرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور مبلغ2/2لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا جبکہ مقدمہ کے چوتھے ملزم یونس کو شک کی بناءپر بری کر دیاگیا ۔مقدمہ میں نامزد چاروں ملزمان کرسچین کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں