قصور: دریائے بیاس تھا یا پانچ فٹ گہرا تین فٹ چوڑا نالا 8 سالہ بچہ انتظامیہ کی نا اہلی بے حسی کی نظر ہو کر موت کی آغوش میں چلا گیا۔

تحریر :مہر محمد شفیق
قصور: دریائے بیاس تھا یا پانچ فٹ گہرا تین فٹ چوڑا نالا 8 سالہ بچہ انتظامیہ کی نا اہلی بے حسی کی نظر ہو کر موت کی آغوش میں چلا گیا۔
گزشتہ روز میں قصور کے علاقے کوٹمراد خاں کے شفیع والا چوک میں الیکٹرونک میڈیا کے حوالے سے جہاں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا تھا جس کی میں رپورٹنگ کر رہا تھا۔ واقعہ کیا تھا آیئے میں اس دلخراش واقعے کی جانب آپ کو لیکر چلتا ہوں اس علاقے میں پانچ فٹ گہرا تین فٹ چوڑا نالا گزشتہ روز ہونیوالی موسئلہ دھار بارش کے باعث دریائے بیاس کی شکل اختیار کر گیا جو کہ قبل ازیں بھی اسی طرح دریائے بیاس کی شکل اختیار کر جاتا ہے ۔دریائے بیاس جس کے اب صرف ٹیلوں کی شکل میں کہیں کہیں نشانات دکھائی دیتے ہیں مگرآج بھی دریائے بیاس کی ہی جگہ پر ایک حصہ اب دریائے ستلج کی شکل میں بہہ رہا ہے ۔پانچ فٹ گہرا اور تین فٹ چوڑا نالہ جس کے حوالے سے مقامی انتظامیہ کو مقامی لوگوں کی جانب سے کئی دہائیوں سے بار بارآگاہ تو کیا گیا مگر انتظامیہ نے سنی ان سنی کر دی جس کے گہرے پانی میں ویلڈنگ کا کام کرنیوالے محنت کش محمد اسلم کا 8 سالہ کمسن بیٹا فیضان اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ سودا سلف لینے کیلئے گھر سے نکلا اور گلی میں کھیلتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں کی کم ظرفی اور غلطی کے باعث نالے کا ڈھکن بند نہ ہونے کیوجہ سے اپناجوتا پکڑتے ہوئے نالے میں گر گیا۔ جس کو پکڑنے کیلئے اسکا بڑا بھائی آگے بڑھا مگر پانی کے تیز بہاو کیوجہ سے بچہ نالے کے اندر چلا گیا ۔اس افسوس ناک واقعہ کی خبر جنگل میں آگ کی طرح علاقہ بھر میں پھیل گئی ۔اطلاع ملنے کے باوجود ضلعی انتظامیہ کے افسران مثلا ڈپٹی کمشنر قصور تو موقع پر نہ پہنچ سکیں مگر اسسٹنٹ کمشنر قصور پہنچے بھی تو چند لمحوں کیلئے بہر حال ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ایک گھنٹے سے زائد ٹائم کی ذرا سی لیٹ ہونے پر موقع پر پہنچیں تو بچہ نالے میں جس مقام پر پانی میں گرا تھا اس مقام سے کہیں ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر پانی کے تیز بہاو کیوجہ سے نکل چکا تھا ۔مگر بے حس انتظامیہ کے افسران پہلے پہل تو جائے حادثہ پر لیٹ سے پہنچے اگر پہنچے بھی تو صرف ایک مقام پر جس مقام پر بچہ نالے میں گرا تھا اسی مقام پر مشینیں لگا کر تلاش کرتے رہے ۔جبکہ بچہ کئی گھنٹوں سے اس مقام سے آگے نکل چکا تھا لواحقین اور اہل محلہ کی کاوشوں اور جو کہ ریسکیو1122 اور میونسپل کارپوریشن عملہ کی بدولت مسلسل سات سے آٹھ گھنٹوں بعد روہی نالا کے قریب سے بالآخر بچہ مل ہی گیا ۔اہل محلہ کیمطابق جس کی سانسیں چل رہی تھیں جسے ریسکیو 1122 کی ٹیم نے موقع ریسکیو کیا جو کہ ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ گیا ۔بچے کی لاش گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا پورے علاہ میں افسوس کا سماں تھا ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے ایک ماہ قبل انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دی تھی جنہوں نے انکی درخواست پر کسی قسم کا کوئی عمل نہ کیا ۔انتظامیہ کی نا اہلی اور سست روی کیوجہ سے 8 سالہ بچہ محمد فیضان موت کی آغوش میں چلا گیا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ چھوٹا سا آپریشن ناقص حکمت عملی کی بدولت سات سے آٹھ گھنٹے جاری رہا کیا یہ دریائے بیاس کا گہرا پانی تھا جہاں بھاری مشینری ہونے کے باوجود آپریشن کرنےمیں اتنا ٹائم لگا ۔یا انتظامیہ کی بے حسی تھی کہ جن کو ایک ماہ قبل سے ایک شہری کی جانب سے درخواست تو دی گئی مگر اس درخواست پر معمول کی طرح سستی ہوئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک محنت کش شخص کا بیٹا اور ماں کا لخت جگر دریائے بیاس میں بہہ کر روہی نالے کے کنارے سے مل گیا۔ میں پڑھنے والوں کو یہ بتاتا چلوں کہ جس علاقے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے اس علاقے کے لوگ بدمعاشی تو کرتے ہی ہیں جبکہ صاحب حیثیت بھی ایسے ہیں کہ ایک ایک ہزار روپے بھی اکٹھا کریں تو لاکھوں اکٹھے ہو جائیں گے ۔جبکہ اگر میں ایک اور بات کروں کہ اسی علاقے کا ایک آفیسر جو کہ عرصہ دراز سے میونسپل کارپوریشن کی متعدد سیٹیں سنبھال کر بیٹھا ہے جس کے بھائی کی ہی اس علاقہ میں بطور داروغہ تعینات ہے۔ جس کی پینسل کی تھوڑی سی سیاہی سے اس علاقے میں صفائی کا ایسا انتظام ہو کہ آپ لوگ بڑی بڑی کالونیاں بھول جائیں ۔ مگر افسوس انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا کہ وہ اپنے علاقہ کیلئے انسانی خدمت سر انجام دے سکیں ۔اب آتا ہوں میں ٹھیکیداران صاحبان کی طرف میونسپل کارپوریشن سمیت محکمہ پبلک ہیلتھ اور دیگر محکموں میں آپ لوگوں نے بڑے بڑے ٹھیکیداران کا نام سنا ہوگا ۔جو ایک طرف صرف نام کی صحافتی خدمات سر انجام دے رہے ہیں جنکو خبر تک بنانی نہیں آتی اور لوگوں سے خبریں بنوا کر اپنے اپنے نیشنل اخبارات کو خبریں میل کرتے ہیں ۔جبکہ دوسری طرف انہیں سرکاری محکموں میں سے بڑے بڑے ٹھیکے لیکر روزی روٹی کا ذریعہ بنائے بیٹھے ہیں ۔مگر افسوس بے حس دل جو عام آدمی کو نہیں دیکھتا اپنے آپ اور اپنے ان لوگوں کو دیکھتا ہے جہاں انکی ریپوٹیشن میں کسی قسم کا کوئی فرق نہ ہو ۔مجھے افسوس کیساتھ یہ سب کچھ لکھنا پڑا کیونکہ ہم دنیا داری کے معاملات میں اتنے ہی الجھ بے حس ہو گئے ہیں کہ ہم انسان کو انسان نہیں جانور سمجھنے لگ گئے ہیں ۔خدارا جس دریائے بیاس میں یہ 8 سالہ فیضان جاں بحق ہوا ہے اسمیں کبھی ہم بھی گر سکتے ہیں ۔ہماری گاڑی کا ادھر سے گزرتے ہوئے نالے کا پل ٹوٹنے سے ٹائر بھی گر سکتا ہے یا خدانخواستہ ہمارا بچہ بھی گر سکتا ہے ۔ عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہو نہیں تو یہاں انسان نہیں بھیڑیئے چل پھر رہے ہیں جو ایک تو دوسرے کے حقوق کا خیال نہیں کرتے دوسرا یہ کہ درندوں کی طرح بچوں کو نوچتے پھر رہے ہیں ۔ خدارا جاگ جاو

اپنا تبصرہ بھیجیں