آخر کیوں ہم ذمہ دار نہیں

تحریر: مہر محمد شفیق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گزشتہ روز بارشوں نے ملک بھر کی طرح قصور میں بھی بے پناہ تباہی مچائی جس کی مثال نہیں ملتی ۔سابقہ حکومتوں کے دور میں ضلع بھر میں بے شمار ترقیاتی کام ہوئے مگر افسوس کہ اس دور حکومت میں شہر بھر میں کام تو کم مگر ٖسابقہ دور حکومت کے پروگراموں کو موجودہ دور حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کیلئے تختیاں لگا لگا کر فوٹو سیشن بہت زیادہ کیا گیا ۔فوٹو سیشن کروانے میں شہر بھر کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افسران تو افسران ،ٹھیکیداران ،بے آسرا سیاستدان اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی کسی سے پیچھے دکھائی نہ دیئے ۔ کیونکہ بات بارشوں سے شروع ہوئی ہے اس لیئے اب میں آتا ہوں بارشوں کی طرف ویسے تو بارش ہونا قدرت کی رحمت سمجھا جاتا ہے مگر افسوس ہمارے چنے ہوئے چند سیاستدانوں ،ضلعی انتظامیہ کے افسران اور متعلقہ محکموں کیساتھ اپنی روزی روٹی کیلئے جڑے ہوئے چند ٹھیکیداران جن میں سے چند ایک صحافت جیسے مقدس شعبہ سے منسلک بھی ہیں اور انکو خود تو خبر لکھنی تک نہیں آتی اور بڑے بڑے اداروں کو پیسے دیکر صحافی بن جاتے ہیں اور کسی نہ کسی سینئر صحافی کے مرہون منت ہو کر ان سے خبریں لکھوا لیتے ہیں اور اپنے اپنے اداروں کو وٹس ایپ اور ای میل کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہم بہت بڑے صحافی ہیں ۔اور اپنے ساتھ چند ایسے لوگ رکھتے ہیں جو کہ مختلف سرکاری شعبوں جیسے کہ میونسپل کارپوریشن ،ضلع کونسل ،پبلک ہیلتھ ،محکمہ لوکل گورنمنٹ ،محکمہ جنگلات،محکمہ ہائی وے اور محکمہ بلڈنگ سے اپنے کام نکلوانے کیلئے خود درخواستیں دلوا کر ان سے دیہاڑیاں لگواتے ہیں اور بعد میں ان سے ان محکموں سے بھاری بھاری رقم کے ٹھیکے لیتے ہیں ۔جن کی بلیک میلنگ میں آکر افسران انہیں بڑے بڑے ٹھیکے دے دیتے ہیں ۔اور وہ اشخاص ان ٹھیکوں کی بدولت اپنے بچوں کیلئے روزی روٹی تو کما لیتے ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے ۔ایسے لوگ جو اوپر تحریر کیئے گئے محکموں سے لیئے گئے ٹھیکوں پر نہ تو مکمل میٹریل لگاتے ہیں اور نہ ہی انکو کوٹیشن کیمطابق مکمل کرتے ہیں ۔جس کیوجہ سے سرکاری طور پر کھڑی کی گئی بڑی بڑی بلڈنگیں ،سڑکیں اور نالے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔گزشتہ روز ہونیوالی تباہ کن بارشوں کیوجہ سے شہر بھر کی ہر گلی ہر شاہراہ تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی جس میں انتظامیہ کے افسران کی گاڑیاں تو ڈوب رہی تھیں وہیں قصور شہر کے باسیوں کے بچے بھی ڈوب رہے تھے۔ شہر بھر میں درجن کے قریب افراد بارشوں کیوجہ سے کہیں تو بچے ڈوب کر مرے اور کہیں چھتیں گرنے سے گھر کے گھر تباہ ہو گئے ۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جن کے بچے بارش کے گہرے پانی میں ڈوب کر اور چھتیں گرنے سے مرے وہ محنت کشوں کے بچے تھے نہ کہ کسی محکمہ کے آفیسر اور ٹھیکیدار یا صحافی اور نہ ہی کسی سول سوسائٹی کے ٹھیکیداروں کے بچے تھے۔ یہ بات میں اس لیئے تحریر کر رہا ہوں کہ مرنیوالے افراد کے لواحقین کے غم میں نہ تو کسی محکمے کا آفیسر شامل ہوا اور نہ ہی کوئی ٹھیکیدار یا صحافی اور نہ ہی کوئی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والا فرد شامل ہوا ۔ایک طرف تو مقامی انتظامیہ کے آفیسر ز قصور کے صاحب حیثیت سول سوسائٹی کے افراد سے بھاری رقمیں وصول کرکے مین فیروز پور روڈ پر گول چکروں میں ٹھیکیداروں کی خدمات حاصل کرکے نمود و نمائش میں اور فوٹو سیشن کے کاموں میں مصروف عمل رہے جبکہ غریب محنت کش افراد شہریوں کے بچے بارش کے پانی میں یا تو بہتے رہے یا پھر انکے سروں پر چھتیں گرتی رہیں۔ میں سمجھتا ہوں شاہد پڑھنے والے میری اس تجویز سے اتفاق کریں کہ حکومت کیجانب سے جاری کردہ فنڈز اور سول سوسائٹی کے صاحب حیثیت افراد جن سے فیروز پور روڈ کی نمود ونمائش کیلئے لیئے گئے فنڈز کو اگر ہم کسی عوامی فلاح کیلئے استعمال کیا جائے تو دنیاداری میں بھی بھلا اور آخرت میں بھی بھلا ہو سکتا ہے ۔کیا ہم انسان نہیں کیا ہماری ذمہ داری نہیں ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم انسانی خدمت میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں ۔ان تمام معاملات کے آخر ہم ذمہ دار کیوں نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں